ہسپتالوں میں موبائل فون پر پابندی: ایک غیر حقیقت پسندانہ پالیسی
محمد اکرم خان
ایڈووکیٹ ھائیکورٹ
سابق ڈپٹی کمشنر آر ٹی او ملتان
ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈائریکٹر انٹیلیجنس اینڈ انویسٹیگیشن ایف بی آر ملتان
03007309286
حال ہی میں حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹروں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، مگر اگر اسے زمینی حقائق کی روشنی میں پرکھا جائے تو یہ پالیسی مریضوں کی فلاح سے زیادہ مسائل کو جنم دینے والی نظر آتی ہے۔
سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے سرکاری ہسپتال ڈیجیٹل طور پر اس قابل ہو چکے ہیں کہ ڈاکٹر موبائل فون کے بغیر ایک دوسرے سے فوری رابطہ قائم کر سکیں؟ کیا ہر وارڈ میں جدید کمیونیکیشن سسٹم، انٹرکام، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اکثر سرکاری ہسپتال آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ نہ مناسب نیٹ ورک دستیاب ہے، نہ ڈیجیٹل ریکارڈ سسٹم اور نہ ہی فوری مشاورت کے لیے کوئی مؤثر متبادل انتظام۔
طب ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں کسی سینئر ڈاکٹر یا اسپیشلسٹ سے فوری مشورہ زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر کو یہ سوچنا پڑے کہ موبائل فون استعمال کرنا قانوناً جرم ہے تو وہ فیصلہ کرنے میں تاخیر کا شکار ہوگا، اور اس تاخیر کی قیمت مریض کو اپنی جان کی صورت میں ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔
یہ پالیسی اس مفروضے پر مبنی دکھائی دیتی ہے کہ ہمارے ہسپتال چین یا یورپ کے معیار کے مطابق مکمل ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، جہاں ہر ڈاکٹر کے پاس آفیشل کمیونیکیشن ڈیوائس، ٹیلی میڈیسن سسٹم اور جدید انفراسٹرکچر موجود ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے یہاں اب بھی ڈاکٹر اپنی ذاتی جیب سے انٹرنیٹ پیکج لے کر مریض کے علاج کے لیے تحقیق کرتے ہیں اور اپنے سینئرز سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ موبائل فون نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی کے دوران سوشل میڈیا، ویڈیوز یا ذاتی مصروفیات میں ملوث ہو تو یقیناً یہ قابلِ گرفت عمل ہے۔ مگر اس کا حل مکمل پابندی نہیں بلکہ واضح ضابطہ اخلاق (SOP) بنانا ہے، جس کے تحت موبائل فون صرف مریض کے علاج، میڈیکل مشاورت اور ایمرجنسی رابطے کے لیے استعمال ہو۔
ایک مہذب اور حقیقت پسند ریاست کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ڈاکٹروں کو سہولت فراہم کرے، نہ کہ ان کے ہاتھ باندھ دے۔ اگر حکومت واقعی نظم و ضبط چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ ہر ہسپتال میں آفیشل فون لائنیں، ڈیجیٹل کمیونیکیشن سسٹم اور ٹیلی میڈیسن کی سہولت فراہم کرے، تاکہ ڈاکٹروں کو ذاتی موبائل استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں پالیسی سازی اکثر کاغذی فائلوں میں ہوتی ہے، جہاں ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جن کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہسپتالوں میں موبائل فون پر مکمل پابندی بھی اسی ذہنیت کی ایک مثال ہے۔
مریض کا مفاد اس بات میں ہے کہ ڈاکٹر کو ہر وہ ذریعہ میسر ہو جو اسے درست اور بروقت فیصلہ کرنے میں مدد دے۔ اگر موبائل فون اس مقصد کو پورا کر رہا ہے تو اسے جرم نہیں بلکہ ایک طبی ضرورت سمجھا جانا چاہیے۔ نظم و ضبط کا تقاضا یہ نہیں کہ عقل کو معطل کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ سہولت اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔
یہ پالیسی اگر نظرثانی کے بغیر نافذ کی گئی تو اس کا نقصان صرف ڈاکٹروں کو نہیں بلکہ براہِ راست مریضوں کو ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت جذباتی فیصلوں کے بجائے زمینی حقائق، طبی ضرورت اور انسانی جان کی اہمیت کو سامنے رکھ کر پالیسی تشکیل دے۔
چیف منسٹر پنجاب کے ٹویٹر سے لی گئی پوسٹ کی کاپی پیش ھے۔