شراب حرام، مگر کاروبار حلال
شراب حرام، مگر کاروبار حلال!
تحریر کلب عابد خان
03009635323
یہ جملہ محض طنز نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس تضاد کا خلاصہ ہے جو برسوں سے ہماری ریاستی پالیسیوں، قوانین اور عملی رویّوں میں رچا بسا ہے، ایک ایسا تضاد جو نہ صرف آئین کے اسلامی تشخص پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ معاشرے میں قانون کی اخلاقی حیثیت کو بھی کمزور کرتا ہے، پاکستان کے آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ ریاست مسلمانوں کو اسلامی طرزِ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرے گی، اسلامی اقدار کا تحفظ کرے گی اور ایسے قوانین نافذ کرے گی جو قرآن و سنت کے منافی نہ ہوں، اسی آئین کی روشنی میں شراب نوشی کو جرم قرار دیا گیا، حدود آرڈیننس بنے، سزائیں مقرر ہوئیں، کوڑوں اور قید کا تصور سامنے آیا، مگر اسی ریاست کے اندر ایک اور متوازی حقیقت بھی موجود ہے جہاں شراب کی فیکٹریاں قانونی ہیں، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ لائسنس جاری کرتا ہے، ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور سرکاری خزانے کو اس حرام شے سے فائدہ پہنچایا جاتا ہے، یہاں سوال یہ نہیں کہ غیر مسلموں کے حقوق کیا ہیں یا انہیں کیا اجازت ہونی چاہیے، اصل سوال یہ ہے کہ جس شے کو ریاست خود اخلاقی، مذہبی اور سماجی طور پر نقصان دہ تسلیم کرتی ہے، وہی شے بطور کاروبار کیسے جائز ہو جاتی ہے، اگر شراب اتنی ہی بری ہے کہ پینے والا مجرم ہے تو بنانے والا، بیچنے والا اور اس پر ٹیکس کمانے والا کس کھاتے میں آتا ہے، یہ وہ بنیادی سوال ہے جس سے ریاست مسلسل نظریں چرا رہی ہے، ہمارے ہاں قانون کا اطلاق ہمیشہ کمزور پر سخت اور طاقتور پر نرم رہا ہے، کوئی غریب اگر شراب کے چند گھونٹ پی لے تو اس پر قانون پوری قوت سے حرکت میں آتا ہے، گرفتاری، تضحیک، حوالات اور سزا، مگر بڑے ہوٹلوں، مخصوص کلبوں اور اثر و رسوخ رکھنے والوں کے لیے سب کچھ قانونی دائرے میں ہوتا ہے، یہ دوہرا معیار نہ صرف انصاف کے اصولوں کی نفی ہے بلکہ اسلام کے تصورِ عدل کے بھی منافی ہے، اسلام میں جرم صرف فعل نہیں بلکہ اس کے اسباب بھی جرم ہوتے ہیں، اسی لیے شراب کے بارے میں صرف پینے کو نہیں بلکہ بنانے، بیچنے، اٹھانے اور پلانے تک کو ناپسند کیا گیا، مگر ہمارے ہاں ریاست نے اس تصور کو آدھا اپنایا اور آدھا چھوڑ دیا، ہم نے سزا کا پہلو تو مضبوط رکھا مگر اصلاح اور روک تھام کے پہلو کو نظر انداز کر دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ شراب نہ ختم ہوئی، نہ اس کے اثرات کم ہوئے بلکہ منافقت نے جنم لیا، قانون سے خوف تو پیدا ہوا مگر اخلاق سے رشتہ ٹوٹ گیا، ریاست جب خود کسی حرام کام سے ریونیو حاصل کرے تو پھر وہ عوام کو کس منہ سے اخلاقیات کا درس دیتی ہے، یہ کیسی اسلامی جمہوریت ہے جہاں ایک ہاتھ میں کوڑا اور دوسرے ہاتھ میں لائسنس تھما دیا جاتا ہے، اگر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ شراب غیر مسلموں کے لیے تیار کی جاتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کی پیداوار مسلم اکثریتی علاقوں میں کیوں، اس کی ترسیل عام شاہراہوں پر کیوں اور اس کے اثرات پورے معاشرے میں کیوں محسوس ہوتے ہیں، شراب ایک بند کمرے تک محدود نہیں رہتی بلکہ حادثات، جرائم، گھریلو تشدد، معاشرتی بگاڑ اور اخلاقی زوال کو جنم دیتی ہے، اس کا خمیازہ صرف پینے والا نہیں بلکہ پورا معاشرہ بھگتتا ہے، مگر ہماری ریاست نے سہولت کے ساتھ یہ راستہ اختیار کیا کہ جرم کا سارا بوجھ فرد پر ڈال دیا جائے اور نظام کو بری الذمہ قرار دے دیا جائے، یہ وہی طرزِ فکر ہے جو ہمیں ہر شعبے میں نظر آتی ہے، ہم مسائل کی جڑ پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے پتے توڑنے پر اکتفا کرتے ہیں، جب تک ریاست خود واضح اور دوٹوک موقف اختیار نہیں کرے گی تب تک یہ تضاد ختم نہیں ہو سکتا، یا تو ہمیں دیانت داری کے ساتھ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم ایک سیکولر طرز کی ریاستی پالیسی چلا رہے ہیں جہاں مذہب محض نام تک محدود ہے، یا پھر ہمیں واقعی اسلامی ریاست ہونے کا ثبوت دینا ہوگا جہاں حرام کو مکمل طور پر حرام سمجھا جائے، نہ کہ صرف عوام کے لیے، قانون کی اصل طاقت سزا میں نہیں بلکہ اس کی اخلاقی برتری میں ہوتی ہے، جب قانون خود متنازع ہو جائے تو اس کی ہیبت ختم ہو جاتی ہے، آج عوام سوال کرتے ہیں اور ان کا سوال بجا ہے کہ اگر شراب واقعی جرم ہے تو پھر اس پر سرکاری مہر کیوں، اور اگر کاروبار جائز ہے تو پھر سزا کیوں، یہ سوال صرف شراب کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے، یہی تضاد ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ قانون کی پاسداری کم اور قانون سے بچنے کی مہارت زیادہ ہو گئی ہے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست خود احتساب کرے، پارلیمنٹ اس مسئلے پر کھل کر بحث کرے، عدلیہ آئینی تشریح میں اس تضاد کو سامنے لائے اور حکومت وقتی ریونیو کے لالچ سے نکل کر طویل المدتی اخلاقی اور سماجی اثرات کو دیکھے، کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک وعدہ ہے، ایک ذمہ داری ہے، اور جب تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوگا تب تک یہ سوال ہمارے اجتماعی ضمیر پر دستک دیتا رہے گا کہ شراب حرام ہے یا صرف پینے والے کے لیے، اور کاروبار واقعی حلال ہے یا صرف طاقتور کے لیے







































Visit Today : 453
Visit Yesterday : 577
This Month : 5703
This Year : 53539
Total Visit : 158527
Hits Today : 3271
Total Hits : 711270
Who's Online : 5



















