ملتان: مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے ضلعی صدر جعفر علی شاہ نے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے کاروباری طبقہ سخت مایوسی کا شکار ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اپنے دعوؤں کے مطابق معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، مہنگائی کی شرح میں واضح کمی آچکی ہے اور روپیہ بھی مستحکم ہے، تو ایسے میں زمینی حقائق کے مطابق پالیسی ریٹ میں کمی ناگزیر تھی۔جاری بیان میں جعفر علی شاہ نے کہا کہ بلند شرح سود کے باعث نجی سرمایہ کاری شدید متاثر ہو رہی ہے، صنعتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں اور نئے کاروبار شروع کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں پہلے ہی بجلی، گیس، ٹیکسز اور دیگر پیداواری اخراجات کے دباؤ میں ہیں جبکہ مہنگے قرضوں نے کاروباری مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ چھوٹا تاجر کسی صورت موجودہ پالیسی ریٹ پر قرض لے کر سرمایہ کاری نہیں کر سکتا جس کے باعث سرمائے کی قلت برقرار رہے گی۔انہوں نے کہا کہ معاشی اور کاروباری اعتماد کی بحالی کے لیے شرح سود کا سنگل ڈیجٹ میں آنا انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 5.6 فیصد کی سطح پر آ چکی ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ میں کمی کی واضح گنجائش موجود تھی۔ اس صورتحال میں اسٹیٹ بینک باآسانی پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لا سکتا تھا لیکن ایسا نہ کرنا تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے مایوس کن ہے۔ جعفر علی شاہ نے عالمی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انٹرسٹ ریٹ کا تعین افراطِ زر میں پوزیٹو رئیل ریٹ شامل کر کے کیا جاتا ہے جو عموماً 2 سے 4 فیصد کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر موجودہ 5.6 فیصد افراطِ زر میں کم از کم 2 فیصد پوزیٹو رئیل ریٹ شامل کیا جائے تو پالیسی ریٹ تقریباً 7.6 فیصد بنتا ہے جبکہ 4 فیصد شامل کرنے کی صورت میں بھی یہ شرح 9.5 سے 9.6 فیصد تک رہتی ہے جسے اسٹیٹ بینک آسانی سے نافذ کر سکتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں پہلے ہی فنانسنگ کی لاگت بہت زیادہ ہے، کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بڑھ چکی ہے اور بجلی و توانائی کی قیمتیں بھی غیر معمولی حد تک بلند ہیں، ایسے میں بلند شرح سود صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو مزید نقصان پہنچا رہی ہے۔ شرح سود میں کمی ہی معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا واحد مؤثر ذریعہ ہے