ملتان: آل پاکستان پاور لومز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر عبدالخالق قندیل انصاری، چیرمین حاجی بشیر احمد پہلوان، جنرل سیکرٹری سعید احمد سعیدی، وائس چیئرمین حاجی ارشاد احمد قادری، حاجی بشیر احمد سلک والے، حاجی مشتاق احمد، محمد یونس انصاری ، ثناء اللہ انصاری ، محمد اشرف گوگا ، رفاقت منیر انصاری ، عبد الواحد ریواڑی والے، حاجی عبدالرشید، حاجی نذیر احمد انصاری ، حاجی مبارک علی، محمد بشیر احمد ، حاجی صابر علی انصاری ، بابو عبدالخالق ، چودھری عبدالغفور، مقبول احمد، عبد الطیف انصاری ، حاجی عبدالزاق انصاری نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف پاور ڈویژن کی سولرائزیشن پالیسی کا فوری نوٹس لیں اور پاور ڈویژن میں عملا نئے نیٹ میٹرنگ کنکشنوں پر پابندی عائد کر دی ہے کیونکہ پہلے سے چلنے والے نیٹ میٹرنگ کنکشنوں بالخصوص پاور لومز انڈسٹری کے چھوٹے صنعتی کنکشنوں کہ ایکسپورٹ یونٹس کو بلنگ میں شامل نہ کر کے نیٹ میٹنگ پالیسی کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے۔ چھوٹی صنعتوں بشمول پاور لومز انڈسٹری اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ای سیکٹر) کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا وزیراعظم پاکستان پاور ڈویژن کی سلورائزیشن پالیسی کو نوٹس لیںنئے نیٹ میٹر پر پابندی لگادی گئی ہے نیٹ میٹرنگ بند کرنے سے حکومت کو تو کروڑوں روپے کا فائدہ ہوا ہے لیکن پاور لومز انڈسٹری کو نقصان ہوانئی پالیسی کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے لوڈ بڑھانے پر پابندی ہے،نئی پالیسی ایسا ہے کہ ہم نے آپکو باندھ کرمارنا ہے،کپڑے کی سب سے زیادہ ایکسپورٹ پاور لومز کی ہے،پہلے دھاگہ پھر بجلی مہنگی کرکے ہماری پیداوری لاگت بڑھا دی گئی ہےحکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بیس ہزار پاور لومز بند ہوچکے ہیں،حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی برقرار رہی تو تمام انڈسٹری بند ہوجائے گی،موجودہ پالیسی کی وجہ سے نا تو ہماری ایکسپورٹ کے ساتھ ساتھ لوکل مارکیٹ بھی تباہ ہوجائے گی ہم چھوٹی انڈسٹری کو دبانے کے لئے بڑی انڈسٹری کو نوازا جاتا ہےانڈسٹریل کنکشن 8کے وی لگانے پر پابندی سے ہمارے لاکھوں کے سولر سسٹم بیکار ہو جائیں گےاگر حکومت پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھاناچاہتے ہیں تو ہمیں مراعات دے دیں ٹییکسٹنشن آف لوڈ پر پابندی کو ختم کیا جائےوی ون کنکشن پر پابندی اور سولر ائزشن پالیسی ہماری مشاورت سے بنائے جائے،حکومت باقی انڈسٹری کی طرح پاور لومز انڈسٹری کو بھی بلا سود قرض دیاجائے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے پاور لومز انڈسٹری سمیت نیٹ میٹرنگ صارفین کے کروڑوں یونٹ کی ایکسپورٹ بلوں میں شامل نہ کر کے ضائع کر دی ھے انہوں نے کہا کہ میپکو سمیت بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں نے 15 دسمبر 2025 سے نئے نئے میٹرنگ کنکشنوں کی فراہمی پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے نوٹس کو بھی ہوا میں اڑا دیا گیا ہے پاور سیکٹر میں کہیں بھی قانون کی عملداری نظر نہیں ارہی ھےبجلی کمپنیوں کی انتظامیہ اپریشنل اور فیلڈ افسر بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ملک میں نیٹ میٹنگ کے ذریعے بجلی کی خود انحصاری پالیسی وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کہ عملی اقدامات کی جیتی جاگتی تصویر ہے جسے انجینیئرز بیوروکریسی نے پس پشت ڈال دیا ہے۔وزیر توانائی سردار اویس لغاری نیٹ میٹنگ صارفین کو کو عملا ریلیف دینے کے بجائے زبانی دعوے کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وزارت توانائی، وزیر توانائی کے زبانی احکامات پر چلائی جا رہی ہے لاکھوں روپے انفرادی طور پر اخراجات کر کے سستی بجلی کے حصول کے لیے سولر سسٹم نیٹ میٹرنگ سسٹم لگانے والے صارفین کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ نیٹ میٹنگ صارفین کے لیے عملا بجلی عام ان گریڈ بجلی سے بھی زیادہ مہنگی کر دی گئی ہے۔وزارت توانائی وزیراعظم سے حقائق چھپا کر ریلیف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔انہوں نے مزید کیا کر میپکو حکام بھی پاور لومز کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہے ہیں ۔ یا رھا یقین دہانیوں کے با وجود کہ باورلومز اور انڈسٹری کے علاقوں میں ٹرانسفارمر کی خرابی کی صورت میں ٹرانسفارمر کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے۔ لیکن اکثر ٹر انفارمر ایک ہفتے سے پہلے تبدیل نہیں کئے جاتے۔ جس سے نہ صرف بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ لوکل اور ایکسپورٹ کے آرڈر بھی متاثر ہوتے ہوتے ہیں اسی لیے وزیراعظم پاکستان،وزیر توانائی،چیف ایگزیکٹو میپکو حکام فوری طور پر سنجیدگی سے نوٹس لیں اور پاور لومز انڈسٹری سے وابستہ مزدوروں کو فاقوں پر مجبور نہ کریں