نپاہ وائرس کا سایا اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: کھیل یا انسانی صحت
نپاہ وائرس کا سایا اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: کھیل یا انسانی صحت؟
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
بھارت میں ایک بار پھر نپاہ وائرس کی موجودگی اور اس کے پھیلاؤ کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جو کورونا کے بعد عالمی صحت کے لیے ایک نیا اور کہیں زیادہ خطرناک چیلنج بن کر ابھر رہا ہے کیونکہ نپاہ وائرس کی شرحِ اموات نہایت بلند بتائی جاتی ہے اور اس کا کوئی حتمی علاج یا ویکسین تاحال دستیاب نہیں، ایسے میں بھارت جیسے گنجان آبادی والے ملک میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے بین الاقوامی ایونٹ کا انعقاد نہ صرف مقامی آبادی بلکہ دنیا بھر سے آنے والے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کے لیے بھی ایک سنجیدہ ہیلتھ رسک بن سکتا ہے، سوال یہ نہیں کہ کرکٹ ہو یا نہ ہو بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا انسانی جانوں کو داؤ پر لگا کر کھیل کا میلہ سجانا دانشمندی ہے، کورونا وبا نے دنیا کو یہ سبق دیا تھا کہ وائرس سرحدیں نہیں دیکھتے اور ایک ملک کی غفلت پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، اس تلخ تجربے کے بعد بھی اگر ہم آنکھیں بند کر کے صرف معاشی یا اسپورٹس مفادات کو ترجیح دیں تو یہ اجتماعی غیر ذمہ داری کے مترادف ہوگا، نپاہ وائرس کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ کوئی معمولی بیماری نہیں بلکہ یہ اعصابی نظام کو شدید متاثر کرتا ہے اور چند دنوں میں مریض کو موت کے دہانے تک پہنچا دیتا ہے، بھارت کے مختلف حصوں خصوصاً کیرالہ میں اس وائرس کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں اور ہر بار حکام کو ہنگامی اقدامات کرنا پڑے ہیں، ایسے ماحول میں جب دنیا کے مختلف ممالک کی ٹیمیں ایک جگہ جمع ہوں گی، اسٹیڈیمز میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کی آمدورفت ہوگی، ہوائی سفر بڑھے گا اور ہوٹلز، ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر ہجوم ہوگا تو وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات خود بخود کئی گنا بڑھ جائیں گے، بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور عالمی صحت کے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ محض میزبان ملک کی یقین دہانیوں پر انحصار نہ کریں بلکہ زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بڑے اسپورٹس ایونٹس میزبان ملک کے لیے وقار اور آمدن کا ذریعہ ہوتے ہیں مگر اگر یہی ایونٹس عالمی صحت کے لیے خطرہ بن جائیں تو پھر ترجیحات پر نظرثانی ناگزیر ہو جاتی ہے، ماضی میں اولمپکس، فٹبال ورلڈ کپ اور دیگر مقابلے بھی وباؤں یا سیکیورٹی خدشات کے باعث ملتوی یا منتقل کیے جا چکے ہیں، اس لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کوئی مقدس فریضہ نہیں کہ جسے ہر حال میں کروایا جائے، کھیل کا مقصد خوشی، تفریح اور صحت مند مقابلہ ہے نہ کہ بیماری اور خوف کو فروغ دینا، ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر ایونٹ کے دوران خدانخواستہ وائرس پھیل گیا تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا، کیا بعد میں صرف افسوس اور تعزیت کے بیانات کافی ہوں گے، کیا متاثرہ کھلاڑیوں اور شائقین کو یہ کہا جائے گا کہ یہ سب قسمت کا کھیل تھا، درحقیقت اصل امتحان فیصلوں کے وقت ہوتا ہے نہ کہ حادثات کے بعد، بین الاقوامی کمیونٹی کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کے کھلاڑی اور سپورٹ اسٹاف اکثر محدود وسائل کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور کسی ہنگامی طبی صورتحال میں ان کے لیے مسائل کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں، اس کے علاوہ مختلف ممالک میں واپس جانے کے بعد قرنطینہ، سفری پابندیاں اور معاشی نقصانات الگ سے ایک نیا بحران جنم دے سکتے ہیں، نپاہ وائرس کا معاملہ محض بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک عالمی خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ آج کی دنیا میں ایک پرواز چند گھنٹوں میں وائرس کو براعظموں تک پہنچا سکتی ہے، اس لیے احتیاط ہی واحد راستہ ہے، احتیاط کا مطلب یہ نہیں کہ کھیل دشمنی اختیار کی جائے بلکہ یہ ہے کہ حالات نارمل ہونے تک متبادل انتظامات پر غور کیا جائے، ایونٹ کو مؤخر کرنا، کسی محفوظ ملک میں منتقل کرنا یا سخت ترین ہیلتھ پروٹوکولز کے ساتھ محدود پیمانے پر کروانا جیسے آپشنز زیرِ غور آ سکتے ہیں، مگر خاموشی اور بے حسی کسی صورت قابلِ قبول نہیں، میڈیا کا کردار بھی یہاں انتہائی اہم ہے کیونکہ اگر خطرات کو کم کر کے دکھایا گیا یا صرف رنگین تقریبات پر فوکس رکھا گیا تو عوامی شعور متاثر ہوگا، صحافت کا تقاضا ہے کہ وہ سوال اٹھائے، دباؤ ڈالے اور فیصلہ سازوں کو آئینہ دکھائے، آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کھیل اپنی جگہ مگر انسانی جان سب سے قیمتی ہے، اگر نپاہ وائرس واقعی کورونا سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے تو پھر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے ایونٹس پر ازسرِنو سوچنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، انٹرنیشنل کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھے اور اس بار بروقت، دانشمندانہ اور جرات مندانہ فیصلہ کرے کیونکہ تاخیر کی قیمت پوری دنیا کو چکانا پڑ سکتی ہے۔






































Visit Today : 217
Visit Yesterday : 533
This Month : 6510
This Year : 54346
Total Visit : 159334
Hits Today : 885
Total Hits : 716830
Who's Online : 1





















