پاکستان میں میڈیکل پروفیشن کا زوال اور نئی نسل کے لیے سوالیہ نشان.

محمد اکرم خان
ایڈووکیٹ ھائی کورٹ
سابق ڈپٹی کمشنر آیف بی آر
ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈائریکٹر انٹیلیجنس اینڈ انویسٹیگیشن ایف بی آر ملتان
03007309286

پاکستان میں ڈاکٹر کا پیشہ کبھی عزت، وقار اور روشن مستقبل کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ والدین اپنی زندگی کی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر لگا دیتے تھے تاکہ وہ ایم بی بی ایس یا ایف سی پی ایس کر کے معاشرے کی خدمت کریں اور باوقار روزگار حاصل کریں۔ مگر آج صورتحال اس کے بالکل برعکس ہو چکی ہے۔
ہمارے گھروں میں ایسے بچے موجود ہیں جو ماشاء اللہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، ایم بی بی ایس، ایف سی پی ایس اور ڈینٹسٹری جیسے مشکل ترین شعبوں میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں، مگر جب وہ عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نجی ہسپتالوں میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو 45 سے 50 ہزار روپے ماہانہ پر رکھا جاتا ہے، جو کہ ایک ہائیلی کوالیفائیڈ پروفیشنل کے شایانِ شان نہیں۔ پانچ پانچ سال ہاؤس جاب اور ٹریننگ کے بعد بھی مستقل روزگار کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔ بعض ڈاکٹر کئی سال تک ایڈہاک بنیادوں پر کام کرتے رہتے ہیں، نہ مستقل سروس اسٹرکچر ہوتا ہے اور نہ ہی مستقبل کا کوئی تحفظ۔
مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں پنجاب حکومت نے بنیادی صحت کے مراکز (BHU) کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں یہ تجربہ بھی ناکام ثابت ہوا اور کئی پرائیویٹ پارٹیاں انہیں واپس کر رہی ہیں کیونکہ یہ نظام چل ہی نہیں سکا۔ اب تحصیل ہیڈ کوارٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں کو بھی نجی تحویل میں دینے کی بات ہو رہی ہے، جس سے سرکاری سطح پر ڈاکٹرز کے لیے روزگار کے مواقع مزید کم ہو جائیں گے۔
یہ سوال انتہائی سنجیدہ ہے کہ اگر ایک نوجوان اتنی محنت، وقت اور پیسہ لگا کر ایم بی بی ایس کرے اور پھر اسے کم تنخواہ، غیر یقینی ملازمت اور بے توقیری کا سامنا ہو تو آنے والی نسل کو ہم کس سمت لے جائیں گے؟
آج دنیا آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہاں میرٹ، قابلیت اور ہنر کی بنیاد پر فوری مواقع موجود ہیں۔ نوجوان اس طرف راغب ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں وہاں عزت، آمدن اور ترقی تینوں نظر آتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں میڈیکل فیلڈ میں نہ تو واضح سروس اسٹرکچر ہے اور نہ ہی مناسب معاوضہ۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان سے ہر سال ہزاروں ڈاکٹر بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ کوئی امریکہ، کوئی برطانیہ، کوئی خلیجی ممالک کا رخ کرتا ہے۔ یہ صرف برین ڈرین نہیں بلکہ قومی سرمایہ کا زیاں ہے۔ ایک ڈاکٹر پر ریاست لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے مگر فائدہ کسی اور ملک کو ملتا ہے۔
یہ صورتحال حکومتِ وقت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ صحت کا شعبہ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ اگر ڈاکٹر ہی غیر محفوظ، مایوس اور بے روزگار ہوں گے تو مریضوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
آج والدین کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے: کیا ہم اپنی آنے والی نسل کو ڈاکٹر بنائیں یا جدید ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبوں کی طرف رہنمائی کریں؟
اگر حکومت نے میڈیکل شعبے میں اصلاحات نہ کیں، مستقل نوکریاں، مناسب تنخواہیں اور واضح کیریئر پاتھ نہ دیا تو ڈاکٹر کا پیشہ آہستہ آہستہ اپنی کشش کھو دے گا۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ: ڈاکٹر صرف پیشہ نہیں بلکہ قوم کی خدمت کا ستون ہے۔ اگر اس ستون کو کمزور کر دیا گیا تو پورا نظام صحت زمین بوس ہو جائے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
سرکاری اسپتالوں کو مضبوط کیا جائے
ڈاکٹرز کو مستقل اور باعزت روزگار دیا جائے
نجکاری کے بجائے اصلاحات پر توجہ دی جائے
نوجوانوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ میڈیکل فیلڈ کا مستقبل پاکستان میں محفوظ ہے
ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہمارے پاس عمارتیں ہوں گی مگر ڈاکٹر نہیں ہوں گے۔
پاکستان میں اس وقت میڈیکل شعبے کو جن لوگوں کے ہاتھ میں دیا گیا ہے، بدقسمتی سے ان کا اس فیلڈ سے دور دور تک کوئی عملی تعلق نہیں۔ یہ لوگ نہ تو ہسپتال کے نظام کو سمجھتے ہیں، نہ مریض کی ضرورت کو، اور نہ ہی نوجوان ڈاکٹر کے مسائل کو۔ یہ وہ افراد ہیں جو حکومتِ وقت کے مفادات کے تابع ہو چکے ہیں، جنہیں میڈیکل ایجوکیشن، ہیلتھ سروس اور انسانی جانوں کے تحفظ سے زیادہ کاروباری مفادات عزیز ہیں۔
ایسے حکمران اور منتظمین میڈیکل شعبے کی سمت کا تعین کیسے کر سکتے ہیں جبکہ انہیں اس شعبے کی بنیادی نو ہاؤ ہی حاصل نہیں؟ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ پورا صحت کا نظام ایک کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں مریض نہیں بلکہ منافع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔