ملتان : معروف سماجی شخصیت، شاعرہ، سینئر براڈ کاسٹر،اور کئی کتابوں کی مصنف بانی رشیدہ بیگم ویلفیئر آرگنائزیشن و بانی انرویل ڈسٹرکٹ 340 رضوانہ تبسم درانی نے کہا ہے کہ خدمتِ انسانیت دراصل عبادت کی معراج ہے اور ہم اس نیک سفر کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ ان کا اپنی فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ انسانیت کی خدمت حقوقِ العباد کی ادائیگی کا بہترین ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت ہم نے اب تک سینکڑوں نلکے اور ہینڈ پمپس لگوائے ہیں تاکہ پسماندہ علاقوں کے مکینوں کو پینے کا صاف پانی میسر آسکے سیلاب کی ناگہانی آفت کے دوران ہماری تنظیم اور ہمارے ڈسٹرکٹ 340 کے تمام کلبز نے بیش بہا کام کیے اور متاثرین کی بحالی کے لیے تونسہ شریف میں 300 سے زائد جبکہ سندھ کے مختلف اضلاع میں 121 سے زائد ہینڈ پمپس نصب کرائے گئے۔ رضوانہ تبسم درانی کا مزید کہنا تھا کہ بیواؤں، یتیموں اور مسکینوں کی مدد ہماری اولین ترجیح ہے، جس کے لیے نہ صرف مالی معاونت کی گئی بلکہ خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے سلائی مشینیں بھی تقسیم کی گئیں اور ان کو اپنے چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کے لیے رقم دی گئی تاکہ وہ اپنے کنبے کی بہترین کفالت کر سکے اور تونسہ جیسے شہر میں ایک ہسپتال بھی بنایا گیا جس میں اب تک سینکڑوں افراد ادویات اور اپنا فری چیک اپ کرواتے ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مختلف مقامات پر افطار دسترخوان سجائے گئے جہاں روزانہ سینکڑوں مستحق افراد نے باوقار طریقے سے افطار کیا اور یہ سلسلہ ہر سال باقاعدگی سے جاری رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے مستقبل کے اہم منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بے سہارا لوگوں کے لیے ” شیلٹر ہوم” بنانے کا عزم کر لیا ہے جس کے لیے زمین حاصل کر لی گئی ہے اور اب اس پروجیکٹ پر تیزی سے کام شروع کیا جائے گا تاکہ معاشرے کے لاچار طبقے کو محفوظ چھت فراہم کی جا سکے۔ میں اسی سلسلے میں پاکستان سے کینیڈا آئی ہوئی ہوں یہاں پر بھی فلاحی کام جاری رکھے ہوئے ہوں واپسی پر انشائاللہ ملتان اور پاکستان کے لیے اچھی خوشخبریاں لاؤنگی جو دکھی انسانیت کے لیے کار آمد ثابت ہوں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خدمتِ خلق کا یہ مشن ان کی زندگی کا اصل اثاثہ اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے ہمارے ڈسٹرکٹ کے 11 مختلف کلبز دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے کام کر رہے ہیں اور انشائاللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور کلبز میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔