سعید ساجد ( آف کراچی ) اردو، سرائیکی، پنجابی ادب کے سرمایہ ہیں: ڈاکٹر شکیل پتافی
ملتان(صفدربخاری سے) پنجاب کونسل آف دی آرٹس ملتان، ڈویژن
اور لاج ایونٹس کے اشتراک سے ملتان آرٹس کونسل میں منعقدہ ادبی بیٹھک ایک یادگار اور شاندار ادبی تقریب ثابت ہوئی، جس میں شہر بھر سے شعراء، ادباء اور ادب سے وابستہ شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نامور شاعر، ادیب، مصنف اور دانشور سعید ساجد کے اعزاز میں منعقدہ اس تقریب میں ان کی ادبی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ملتان ادب ثقافت کا عظیم مرکز اور صدیوں پرانا شہر ہے یہاں آکر اپنانیت کا احساس ہوا ہے یہاں آکر جو محبت اور پیار ملا ہے وہ ہمشیہ یاد رہیے گا ملتان کے ادبی حوالے میرے لیے افتخار و سر مایہ ہیں مہمانِ خصوصی محمد سلیم قیصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے ادبی پروگرامز معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں اور نوجوان نسل کو ادب سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر شکیل پتافی نے کہا کہ ادب کسی بھی معاشرے کی روح ہوتا ہے اور ادیب اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے سعید ساجد ( آف کراچی )کی ادبی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں اردو، پنجابی ، سرائیکی ادب کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ تقریب کی میزبان تانیہ عابدی نے نظامت نہایت خوبصورتی اور روانی کے ساتھ کی اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سعید ساجد لفظوں سے محبت کرنے والا صاف جذبے کا شاعر ہے وہ اپنی تحریروں میں معاشرتی مسائل اور انسا نوں کے درد کو بیان کرتے ہیں جبکہ مہمانانِ اعزاز شیراز غفور اور اشعر کامران نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ادبی سرگرمیوں کے فروغ پر زور دیا۔محفلِ مشاعرہ میں معروف اور ابھرتے ہوئے شعراء نے اپنا کلام پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔ اشعار میں محبت، سماجی مسائل، اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی کی گئی، جس سے محفل کا سماں بندھ گیا۔تقریب کے اختتام پر تانیہ عابدی اور مہمانِ خصوصی نے سعید ساجد کو ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ اور پھول پیش کیے، جبکہ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ایسی ادبی محافل کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔ تقریب میں خضر حیات مون، مختیار علی خان، ڈاکٹر دلشاد رانا، راؤ وحید اسد، آصف ریاض بٹ، فاروق احمد عربی، ڈاکٹر انس فرید، ظفر علی خان ، خالد وارث، ارشاد علی،شہزادہ وحید، طلحہ تبسم ، فیضان قریشی، صائمہ صائمی، کومل جوئیہ نے اپنا اپنا کلام پیش کیا اور ممانان خصوصی نے تقریب کی میزبان معروف شاعرہ و مصنف دانشور اور نعت خواں تانیہ عابدی کا شکریہ ادا کیا۔





































Visit Today : 328
Visit Yesterday : 533
This Month : 6621
This Year : 54457
Total Visit : 159445
Hits Today : 1943
Total Hits : 717888
Who's Online : 4





















