لاہور (بیوروچیف) شہر میں پولیس کے بعض اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کو ہراساں کرنے اور مبینہ طور پر رشوت وصول کرنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ تھانہ راوی روڈ کے دو کانسٹیبلز شبیر بٹ اور سلیم پر ایک شہری نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بورے والا کے رہائشی علی حسنین انٹرویو کے سلسلے میں لاہور آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرویو کے بعد وہ رکشہ کے ذریعے 32 چوک پہنچے، جہاں دو پولیس اہلکاروں نے انہیں روک لیا۔ شہری کے مطابق اہلکاروں نے ان کا موبائل فون زبردستی لے کر چیک کرنا شروع کیا اور الزام لگایا کہ موبائل میں مبینہ طور پر جوا سے متعلق گیم موجود ہے۔ علی حسنین نے بتایا کہ انہوں نے خود کو طالب علم ظاہر کیا اور موقف دیا کہ ان کا کسی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں، تاہم اہلکاروں نے ان کی ایک نہ سنی۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے ایک عزیز سے فون پر بات بھی کروائی مگر اس کے باوجود انہیں ریلیف نہ ملا۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان کی تلاشی لے کر 3500 روپے نکال لیے اور مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر رقم نہ دی گئی تو انہیں تھانے لے جایا جائے گا۔ علی حسنین کے مطابق مسلسل منت سماجت کے بعد اہلکاروں نے ان سے ایک ہزار روپے لے کر انہیں جانے دیا۔ شہری نے الزام عائد کیا کہ انہیں ڈرا دھمکا کر ہراساں کیا گیا اور ان کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے اپیل کی ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دوسری جانب پولیس حکام کی جانب سے واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کے مطابق شکایت موصول ہونے کی صورت میں معاملے کی تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔