ملتان :  مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی جنوبی پنجاب کے صدر شیک جاوید اختر، ضلع ملتان کے صدر سید جعفر علی شاہ،ملتان کے صدر خالد محمود قریشی، ملتان کے جنرل سیکرٹری مرزانعیم بیگ، ملتان کے نائب صدر رانا محمداویس علی،چوہدری عبدالمنان گوندل، چوک بازار حسین آگاہی کے صدر شیخ پرواز اختر، اندرون کالے منڈی کے صدر محمد شہباز قریشی، اندرون کوثر بازار کے صدر میاں مقبول قریشی،ٹمبرمارکیٹ کے رہنماں محمد طلحہ نیاز قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا سیف سٹی پروجیکٹ ایک اچھا اقدام ہے اگر اس پروجیکٹ پر فوری عمل کیا گیا تو بہت سے حادثات سے بچا جاسکتاہے مگر موجود صورتحال میں ملتان و گرد و نواح میں قائم اکثر مارکیٹ بازاروں اور پلازوں میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیفٹی کے کوئی انتظامات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں اورنہ ہی کوئی متبادل راستہ ہے جس کی وجہ سے خدانخواستہ کراچی کے گل پلازہ کی طرح کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے جس کی ذمہ دار ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے ہوں گے ملتان میں بھی کپڑا اور پاسٹک سمیت بڑی بڑی مارکیٹیں ہول سیل مارکیٹ ہیں جس میں خاص طور پر اندرون شہر میں اندھی کھوئی،چوک بازار حسین آ گاہی،صرافہ بازار،اندرون حرم گیٹ،اندرون بوہرگیٹ،کپ بازارگرڑمنڈی،کوثر بازار، چوری سرائے بازار،سمیت بیرون شہر میں گلگشت برانڈ روڈ، گردیزی مارکیٹ،چونگی نمبر 14، ممتاز آباد،نیو ملتان سمیت کپڑا اور پلاسٹک سمیت دیگر اشیاء کے بڑے بڑے کاروباری مراکز موجود ہیں خاص طور پر اندرون شہر میں ملتان شہر کی تاریخی بازار قائم ہیں ان بازاروں میں کاروباری مراکز کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ایک بڑی تعدادرہائش پذیر بھی ہے ان بازاروں میں دکانوں کے ساتھ ان دکانوں کے اوپر لوگوں کی رہائشیں موجود ہیں جہاں پر پہلے بھی کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں مگر آج تک یہاں پر سیفٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہے اور نہ ہی ملتان میں کسی گنجان آبادی میں ضلع انتظامیہ کی طرف سے کوئی فرسٹ ایڈ یا فائر کی پوسٹ موجود ہے ہم نے متعد مرتبہ ضلع انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی میٹنگز میں باقاعدہ نشاندہی بھی کی ہے خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ اگرہم ماضی کی طرف دیکھیں تو اندرون شہر کپ بازار میں آگ لگنے سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوااور کافی لوگ زخمی ہوئے اسی طرح سے اندرون بوہر گیٹ میں بھی بڑا حادثہ ہواجس میں کافی قمیتی جانی نقصان ہوا تھااس کے علاوہ بھی بڑی مارکیٹوں میں بڑے نقصانات ہوئے اس کے باوجودآج تک ضلع انتظامیہ خاموش ہے آج تک کسی بھی کمشنر، ڈپٹی کمشنر، میونسپل کارپوریشن،ریسکیو،سول ڈیفنس کے کسی محکمے نے بھی اس حوالے سے کوئی کام نہیں کیااور نہ ہی کسی مارکیٹ میں خصوصا اندرون شہر میں کئی حادثات ہونے کے باوجود بھی آج تک سیفٹی کا کوئی انتظامات نہیں کیے گئے خدا نہ خواستہ اندرون شہر میں آج بھی کوئی حادثہ ہو جائے تو وہاں پرریسکیو کے حوالے سے کوئی انتظام نہیں ہے اندرون شہر کی تنگ گلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کوسیفٹی کے حوالے سے کوئی پلان مرتب دینا چاہیے تھاجو آج تک نہیں دیا گیاکیونکہ اندرون شہر میں تنگ گلیوں تنگ روڈزکی وجہ سے اگر خدانخواستہ یہاں کوئی حادثہ ہو جائے نہ تو فائر بربگیڈ کی گاڑی جا سکتی ہے اور نہ ہی ایمبولنسیں جا سکتی ہیں اس تمام تر سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے کئی مرتبہ ضلعی انتظامیہ کوباور بھی کرایا ہے کہ خدار ان مارکیٹوں،بازاروں میں اور ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے سیفٹی کے حوالے سے کوئی پلان مرتب کریں جس پرآج تک توجہ نہیں دی گئی خواجہ سلیمان صدیقی نے و زیراعلی پنجاب مریم نواز شریف،کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر ملتان سے مطالبہ کرتے ہیں کہا کہ ملتان کے تمام مارکیٹوں بازاروں اور گنجان آبادیوں میں ریسکو 1122کی فرسٹ ایڈ اور فائر کی پوسٹ قائم کی جائے اورہروقت ریسکو1122کا عملہ سول ڈیفنس کا عملہ موجود ہونا چاہیے اور ہر بازار میں فرسٹ ایڈ اور فائر کی پوسٹ کی نگرانی مارکیٹوں اور بازاروں کے صدروز کو سونپ جائے اور ہر پوسٹ پرفرسٹ ایڈ اور فائر کا سامان سول ڈیفنس ڈپٹی کمشنر کو مہیا کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔