پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن کی سفارشات تسلیم، مریضوں کے تحفظ کو ترجیح
ملتان(صفدربخاری سے) پاکستان میں فارمیسی کے شعبے اور مریضوں کے محفوظ علاج کے فروغ کی جانب ایک نہایت اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن کی مسلسل اور مدلل سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کے تمام سرکاری و نجی، چھوٹے اور بڑے ہسپتالوں میں فارمیسی سروسز کے فوری نفاذ اور فارماسسٹس کی تعیناتی کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن کے ایک اعلی سطحی وفد نے بارہا پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے اعلی افسران سے ملاقات کی۔ اس وفد میں محمد عالمگیر راو (صدر، PPA سنٹر)، پروفیسر ڈاکٹر فرقان ہاشمی (جنرل سیکرٹری، PPA سنٹر)، عبدالمجید بھٹی ایڈووکیٹ (سیکرٹری پریس، PPA پنجاب)، اور ینگ فارماسسٹ ڈاکٹر محمد عمر شامل تھے۔وفد نے پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں فارمیسی سروسز کی عدم موجودگی، میڈیکیشن ایررز، غیر محفوظ ادویاتی استعمال اور مریضوں کو لاحق سنگین خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی اور اس امر پر زور دیا کہ ہر ہسپتال میں مستند اور رجسٹرڈ فارماسسٹس کی موجودگی مریضوں کی جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔الحمدللہ، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن کی سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پنجاب کے تمام کیٹیگریز کے ہسپتالوں میں فارمیسی سروسز کا قیام لازم قرار دیا گیا ہے۔ ہر ہسپتال کو اضافی فارماسسٹس تعینات کرنے کا پابند بنایا گیا ہے.میڈیکیشن مینجمنٹ کو مریضوں کی حفاظت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ نمبر PHC/CGS/80/23 مورخہ 19 جنوری 2026 تمام چیف ایگزیکٹو آفیسرز، میڈیکل ڈائریکٹرز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کے نام جاری کیا گیا ہے۔مراسلے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے خطوط 23 مئی 2019، 27 اکتوبر 2020 اور 21 جنوری 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب کے اکثر ہیلتھ کیئر اداروں میں فارمیسی سروسز ناکافی یا غیر فعال تھیں، جس کے باعث ادویات کے غیر محفوظ استعمال، میڈیکیشن ایررز اور مضر ادویاتی اثرات جیسے سنگین مسائل سامنے آ رہے تھے۔قانونی اور ریگولیٹری بنیاد پر نوٹیفکیشن کے مطابق، فارمیسی سروسز پنجاب فارمیسی پریکٹس ایکٹ 2012 کی دفعہ 20 کے تحت فراہم کی جائیں گی۔تمام ہسپتالوں کو Minimum Service Delivery Standards (MSDS) کے تحتMedication Managementکے تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ ادویات کی خریداری، ذخیرہ، تقسیم اور استعمال کو باقاعدہ نظام کے تحت منظم کیا جائے گا۔فارماکوویجیلنس اور مریضوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے PHC نے واضح کیا ہے کہ ہر ہسپتال میں مستند فارماسسٹس کی تعیناتی، فارماکوویجیلنس افسران (فارماسسٹس) کی موجودگی، مضر ادویاتی اثرات (ADRs) کی رپورٹنگ، ڈرگ انٹریکشنز کی جانچ، ڈرگ یوٹیلائزیشن ریویو، اینٹی بایوٹکس کے درست استعمال، ہائی الرٹ اور ہائی رسک ادویات کے محفوظ انتظام کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس پر قابو پایا جا سکے اور مریضوں کی جان و مال کا تحفظ ممکن ہو۔سخت مانیٹرنگ کیلئے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی فیلڈ ٹیمیں باقاعدگی سے ہسپتالوں کا معائنہ کریں گی اور میڈیکیشن مینجمنٹ کے معیار پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔پی پی اے کا موقف ھے کہ پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن اس تاریخی فیصلے کو نہ صرف فارماسسٹس بلکہ پورے صحت کے نظام اور عوام کے لیے ایک عظیم کامیابی قرار دیتی ہے۔ پی پی ائے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی فارماسسٹس کے پیشہ ورانہ حقوق، مریضوں کے محفوظ علاج اور قومی صحت کے نظام کی بہتری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔یہ فیصلہ پاکستان میں فارمیسی کے شعبے کو ایک نئی سمت دینے، نوجوان فارماسسٹس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مریضوں کو عالمی معیار کی فارمیسی سروسز فراہم کرنے کی جانب ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔





































Visit Today : 399
Visit Yesterday : 533
This Month : 6692
This Year : 54528
Total Visit : 159516
Hits Today : 2505
Total Hits : 718450
Who's Online : 8





















