ملتان: قومی تاجر اتحاد پاکستان نے کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد ملک بھر میں تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کے فقدان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی گل پلازہ میں فائر سیفٹی کے اقدامات کو چیک کرنے والے عملے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے اور یہ تحقیقات کی جائیں کہ نذرانہ لے کر عمارت کو کلیئرنس کیوں دی گئی۔اس حوالے سے قومی تاجر اتحاد پاکستان کا ایک ہنگامی اجلاس ملتان میں منعقد ہوا، جس میں مختلف تاجر تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی تاجر اتحاد کے مرکزی صدر سلطان محمود ملک نے کہا کہ گل پلازہ کراچی کا افسوسناک واقعہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، مگر بدقسمتی سے متعلقہ ادارے تاحال غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملتان سمیت ملک بھر کی سینکڑوں کمرشل عمارتوں، پلازوں، شاپنگ مالز اور مارکیٹس میں فائر الارم سسٹم، ایمرجنسی ایگزٹ، فائر فائٹنگ آلات اور حفاظتی تربیت کا شدید فقدان ہے، جو کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جن مارکیٹوں، پلازوں اور شاپنگ مالز میں فائر سیفٹی کے انتظامات موجود نہیں، وہاں فوری طور پر فائر سیفٹی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی تاجر اتحاد انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا اور جہاں بھی فائر سیفٹی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے، ہم انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔قومی تاجر اتحاد جنوبی پنجاب کے صدر ملک اکرم سگو نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے بیشتر کمرشل مراکز میں فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات تک موجود نہیں، جو نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام تجارتی عمارتوں کی جانچ پڑتال کی جائے۔ قومی تاجر اتحاد جنوبی پنجاب کے چیئرمین اور انجمن تاجران تعلق روڑ کے صدر شیخ محمد شفیق نے کہا کہ تاجر برادری اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہے، جبکہ ضلع ملتان کے صدر ملک مقبول کھوکھر نے کہا کہ بڑے پلازوں اور مارکیٹس میں فائر سیفٹی قوانین صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں، عملی طور پر کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔سٹی صدر قومی تاجر اتحاد ملک اقبال جاوید نے فائر بریگیڈ، ریسکیو اداروں اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کمی کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں چوک حسین آگاہی،الیکٹرونکس مارکیٹ،رحیم سنٹر،مدنی سنٹر،گلگشت ،ممتاز آباد،گلشن مارکیٹ،رحمت سنٹر،شریف پلازہ ،برانڈ روڈ،حسن آرکیڈ اور دیگر مارکیٹوں وپلازے ، ہول سیل کپڑےاور منڈی وغیرہ پر کوئی فائر سیفٹی نہیں کے انتظامات موجود نہیں ہیں ۔ ضلعی جنرل سیکرٹری خواجہ فہیم صدیقی نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی جیسے واقعات ملتان میں بھی پیش آ سکتے ہیں۔قومی تاجر اتحاد ملتان سٹی کے جنرل سیکرٹری محمد یعقوب مغل نے نشاندہی کی کہ شاپنگ مالز اور کمرشل مراکز میں ایمرجنسی ایگزٹ راستوں پر قبضے معمول بن چکے ہیں، جو کسی بڑے المیے کو دعوت دینے کے مترادف ہیں۔ چیئرمین ملتان سٹی ملک محمد امجد سیال نے کہا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد صرف نوٹسز سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سخت نگرانی اور بھاری جرمانے ناگزیر ہیں۔آخر میں سٹی نائب صدر شیخ محمد عمر نے کہا کہ تاجر اور شہری دونوں شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور اگر خدانخواستہ کوئی بڑا حادثہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔