ملتان : مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے ضلعی صدر جعفر علی شاہ نے کہا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ بظاہر خوش آئند ہے، تاہم صرف ترسیلاتِ زر پر انحصار کرنا ملکی معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترسیلاتِ زر کے باعث کھپت میں بے تحاشا اضافہ، روپے کی قدر میں مصنوعی بہتری اور برآمدات کی کمزوری جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلاتِ زر بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والا مفت زرمبادلہ ہے جو براہِ راست گھروں تک پہنچتا ہے، اس کا معیشت کی پیداواری ترقی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ ایک مثبت عنصر دکھائی دیتا ہے لیکن مجموعی معاشی تناظر میں اس کے نتائج مختلف اور بعض اوقات منفی بھی ہو سکتے ہیں۔اپنے بیان میں جعفر علی شاہ نے کہا کہ پالیسی سازوں کے پاس ترسیلاتِ زر کے مؤثر استعمال سے متعلق کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ یہ واضح نہیں کہ ترسیلاتِ زر سے آنے والی رقم بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں استعمال ہو رہی ہے یا اس کے ذریعے پرتعیش درآمدات کے بل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ترسیلاتِ زر معاشی سرگرمی بڑھانے اور لاکھوں خاندانوں کی آمدن میں اضافے کا سبب بنتی ہیں، تاہم پچیس کروڑ عوام پر مشتمل ملک کی معیشت کو صرف ترسیلاتِ زر کے سہارے نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ برآمدات میں اضافہ کیے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔ حکومت کو ترسیلاتِ زر کے حوالے سے ایک جامع اور مؤثر پالیسی تشکیل دینی چاہیے تاکہ اس کا مجموعی فائدہ ملک کو پہنچ سکے۔ جعفر علی شاہ نے کہا کہ وزیرِ خزانہ خود تسلیم کر چکے ہیں کہ نامور کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر جا رہی ہیں، جو تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ توانائی کی قیمتوں، ٹیکسوں اور غیر ضروری رکاوٹوں کے حوالے سے زمینی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کی جائے، بصورتِ دیگر معاشی حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔