شہباز شریف ہسپتال ملتان میں مریض پر مبینہ تشدد، سابق بلدیاتی نمائندگان کا وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر صحت سے فوری نوٹس کا مطالبہ
ملتان(صفدربخاری سے) مسلم لیگ (ن) کے سابق بلدیاتی چیئرمینز، وائس چیئرمینز اور پارٹی رہنماؤں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور وزیر صحت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ شہباز شریف ہسپتال ملتان میں ڈاکٹرز اور سیکیورٹی گارڈز کی مبینہ بدمعاشی اور تشدد کے واقعے کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ مریض کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سابق بلدیاتی چیئرمینز جلیل خان بابر، ملک اعجاز رجوانہ، رانا نعیم، اختر عالم قریشی، محمد قصور بھٹی، رانا امجد علی، میاں فیاض احمد شیخ، وائس چیئرمینز انجم پیرزادہ، اعجاز بلوچ اور سینئر رہنما محمد ناصر کمبوہ سمیت دیگر نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ سابق چیئرمین جلیل خان بابر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا محمد اسامہ خان 6 جنوری کی رات تقریباً دو بجے کان میں شدید درد کے باعث شدید سردی اور دھند کے دوران شہباز شریف ہسپتال کی ایمرجنسی پہنچا۔ ان کے مطابق ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر نے مریض کا معائنہ کیے بغیر اسے نشتر ہسپتال جانے کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ مریض شدید درد میں مبتلا تھا اور خراب موسم کے باعث نشتر ہسپتال جانا مشکل تھا، جس پر اس نے اسی ہسپتال میں علاج کی بار بار درخواست کی۔ جلیل خان بابر کا کہنا تھا کہ مریض کے اصرار پر ڈیوٹی ڈاکٹر مشتعل ہو گیا اور تین سیکیورٹی گارڈز کو بلا کر مریض کو “سبق سکھانے” کے احکامات دیے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی گارڈز کے مبینہ تشدد سے محمد اسامہ خان کی ٹانگ تین جگہ سے ٹوٹ گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تشدد کے بعد زخمی مریض کو تقریباً دو گھنٹے تک ہسپتال میں یرغمال بنائے رکھا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شور شرابے کے بعد ڈی ایم ایس شہباز شریف ہسپتال نے متعلقہ تھانے کی پولیس کو طلب کیا، تاہم پولیس نے زخمی مریض کی حالت دیکھ کر اسے حراست میں لینے سے انکار کیا اور موقع سے واپس چلی گئی۔ اس کے بعد ڈی ایم ایس نے 1122 کو کال کر کے زخمی مریض کو نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی منتقل کروایا اور مبینہ طور پر نشتر ہسپتال کے ڈاکٹرز کو میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ جلیل خان بابر کے مطابق مضروب مریض محمد اسامہ خان ڈاکٹرز اور سیکیورٹی گارڈز کو سامنے آنے پر شناخت کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی مریض نے 1122 کے اہلکاروں کے فون کے ذریعے اپنے گھر اطلاع دی کہ وہ زخمی حالت میں نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل ہے۔ پریس کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک مریض نہیں بلکہ پورے نظام صحت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق بلدیاتی چیئرمینز، وائس چیئرمینز اور رہنماؤں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور وزیر صحت پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا کہ شہباز شریف ہسپتال ملتان میں پیش آنے والے اس واقعے کا فوری اور شفاف نوٹس لیا جائے، ملوث ڈاکٹرز اور سیکیورٹی گارڈز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور مضروب مریض محمد اسامہ خان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔





































Visit Today : 397
Visit Yesterday : 533
This Month : 6690
This Year : 54526
Total Visit : 159514
Hits Today : 2466
Total Hits : 718411
Who's Online : 7





















