وہاڑی چوک ملتان سے پینک بٹن غائب — عوام محفوظ، بٹن غیر محفوظ
“وہاڑی چوک سے پینک بٹن غائب — عوام محفوظ، بٹن غیر محفوظ!”
تحریر: کلب عابد خان
رابطہ: 03009635323
وہاڑی چوک ملتان سے سیف سٹی کا پینک بٹن غائب ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمارے انتظامی نظام کی کمزوریوں کو نہ صرف بے نقاب کرتا ہے بلکہ عوامی مزاح اور طنز کا بھی بھرپور سامان فراہم کرتا ہے کیونکہ یہ بٹن دراصل شہریوں کے لیے ایک علامتی سہارا تھا کہ کسی ہنگامی صورتحال میں ایک دباؤ سے پورا نظام حرکت میں آ جائے گا مگر اب یہ سہارا بھی کسی نامعلوم ہاتھوں میں جا چکا ہے اور عوام سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر بٹن محفوظ نہیں تو پھر عوام کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں، یہ سوال اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ادارے اکثر بٹنوں اور کاغذی منصوبوں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں جبکہ عوام اپنی روزمرہ زندگی میں صبر، برداشت اور دعا پر، اور یہی تضاد اس پورے واقعے کو ایک مزاحیہ المیہ بنا دیتا ہے کیونکہ بٹن کے غائب ہونے پر پولیس کی پریشانی دیدنی تھی، افسران سوچ رہے تھے کہ اب اگر کوئی ہنگامی صورتحال پیش آئی تو ہم کس بٹن کو دبائیں، شاید چائے کا کپ ہی بجا دیں یا پھر موبائل فون کی گھنٹی پر اکتفا کریں، عوام کا ردعمل بھی دلچسپ تھا، لوگوں نے کہا کہ پینک بٹن گیا تو کیا ہوا، ہم تو پہلے ہی روزانہ پینک میں رہتے ہیں، ٹریفک جام، بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت اور مہنگائی کے طوفان نے ہمیں اتنا مضبوط کر دیا ہے کہ اب کسی بٹن کی ضرورت ہی نہیں رہی، بلکہ کچھ شہریوں نے تو مذاق میں کہا کہ چور نے بٹن چرایا نہیں بلکہ عوام کو ایک نیا تفریحی موضوع دے دیا ہے، اب ہر محفل میں یہی بحث ہے کہ بٹن کہاں گیا، کس نے چرایا، اور اس کا کیا استعمال ہو سکتا ہے، کچھ نے کہا کہ شاید چور نے اسے گھر میں لگا لیا ہو تاکہ بیوی کے غصے کے وقت دباکر پولیس کو بلا سکے، کچھ نے کہا کہ یہ بٹن اب کسی کمرشل مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہوگا جیسے پرانے موبائل فون یا ریڈیو، اور کچھ نے تو یہ تک کہا کہ بٹن دبانے سے اب چور خود محفوظ ہو گیا ہے، یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمارے ادارے بٹنوں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں اور عوام صبر پر، بٹن گیا لیکن صبر ابھی بھی باقی ہے، اور یہی صبر ہماری اصل طاقت ہے، مگر طنزیہ پہلو یہ ہے کہ سیف سٹی کا پورا نظام جسے جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار کہا جاتا ہے، ایک بٹن کے غائب ہونے سے مزاحیہ خبر بن گیا، جیسے کسی بڑے قلعے کی دیوار گرنے کے بجائے اس کا دروازہ ہی غائب ہو جائے، عوام نے اس پر سوشل میڈیا پر بھی خوب تبصرے کیے، کسی نے لکھا کہ “سیف سٹی کا بٹن گیا، اب شہر صرف سٹی رہ گیا”، کسی نے کہا کہ “یہ بٹن دبانے سے شہر محفوظ ہوتا تھا، اب چور محفوظ ہوگیا ہے”، اور کسی نے تو یہ تک کہا کہ “پینک بٹن گیا، لیکن ٹریفک پولیس پھر بھی وہیں کھڑی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو”، یہ سب جملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عوام نے اس واقعے کو سنجیدگی کے بجائے مزاحیہ انداز میں لیا، کیونکہ ہمارے معاشرے میں جب مسائل حد سے بڑھ جائیں تو لوگ ان پر ہنسنے لگتے ہیں، اور یہی ہنسی دراصل ایک اجتماعی احتجاج بھی ہوتی ہے، اس کالم کا مقصد یہی ہے کہ ہم اس واقعے کو صرف ایک چوری نہ سمجھیں بلکہ اس کے پیچھے چھپی حقیقت کو دیکھیں کہ ہمارے ادارے کس قدر کمزور ہیں کہ ایک بٹن بھی محفوظ نہیں رکھ سکتے، اور عوام کس قدر مضبوط ہیں کہ بٹن کے بغیر بھی اپنی زندگی گزار رہے ہیں، یہ تضاد ہی ہمارے معاشرتی ڈھانچے کی اصل تصویر ہے، اور یہی تصویر ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ اصلاح کی ضرورت ہے، ورنہ کل کو کوئی اور بٹن، کوئی اور علامت، کوئی اور سہارا بھی غائب ہو سکتا ہے، اور ہم پھر اسی طرح ہنس کر اپنے دکھ کو چھپانے کی کوشش کریں گے، آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہاڑی چوک کا پینک بٹن صرف ایک بٹن نہیں تھا بلکہ ہمارے نظام کی علامت تھا، اور اس کا غائب ہونا ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ ہمیں بٹنوں پر نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی پر بھروسہ کرنا چاہیے، کیونکہ بٹن دبانے سے شہر محفوظ نہیں ہوتا، بلکہ انصاف، قانون اور انتظامیہ کی مضبوطی سے ہوتا ہے، اور جب تک یہ مضبوط نہیں ہوں گے، تب تک کوئی بھی بٹن، چاہے وہ پینک کا ہو یا خوشی کا، ہمارے لیے صرف ایک مزاحیہ خبر ہی رہے گا۔





































Visit Today : 397
Visit Yesterday : 533
This Month : 6690
This Year : 54526
Total Visit : 159514
Hits Today : 2444
Total Hits : 718390
Who's Online : 9





















