ملتان: کاتبِ قرآن سیدنا امیر معاویہؓ کے کردار و خدمات تاریخِ اسلام کا روشن باب ہیں: ملک محمد رفیق
ملتان: سنی علماء کونسل ملتان کے ضلعی صدر و ممبر امن کمیٹی ملک محمد رفیق نے کہا ہے کہ تاریخ اسلام کے روشن اوراق کاتب قرآن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے کردار و کارناموں اور فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں اپؓ کے والد سیدنا ابو سفیانؓ سرداران قریش میں سے ہیں اور فتح مکہ کے موقعہ پر حضور ﷺ نے ان کے گھر کو بھی ”دارالامن“ قرار دیا۔ سیدنا حضرت امیر معاویہ ﷺ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضور ﷺ سے ملتا ہےسیدنا حضرت امیر معاویہؓ وہ خوش نصیب انسان ہیں جن کو جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ کاتب وحی اور پہلے اسلامی بحری بیڑے کے موجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور آپؓ کے لیے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے کئی مرتبہ دعائیں اور بشارتیں نکلیں۔ آپؓ کی بہن حضرت سیدہ امّ حبیبہ ؓ کو حضور اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ اور اُمّ المؤمنین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، آپؓ نے 19 سال تک 64 لاکھ مربع میل یعنی آدھی دنیا پر حکومت کی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیاسی و مذہبی رہنما ملک طاہر ڈوگر کے ڈیرہ پر سنی علماء کونسل ضلع ملتان کے زیر اہتمام کاتب قرآن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سیمینار سے خطاب کے دوران کیا سیمینار سے مولانا اجمل فاروقی،قاری مبشر تبسم،مولانا عبدالمجید انجم نے بھی خطاب کیا مقررین نے کہا کہ سیدنا حضرت امیر معاویہ نے سب سے پہلا اقامتی ہسپتال دمشق میں قائم کیا اور سب سے پہلے اسلامی بحریہ قائم کیا،جہاز سازی کے کارخانے بنائے اور۔ آب پاشی اور آب نوشی کے لیے دورِ اسلامی میں پہلی نہر کھدوائی۔ ڈاک خانہ کی تنظیم نو کی اور ڈاک کا جدید اور مضبوط نظام قائم کیا۔ سب سے پہلے احکام پر مہر لگانے اور حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا آپؓ سے پہلے خانہ کعبہ پر غلافوں کے اوپر ہی غلاف چڑھائے جاتے تھے۔ آپؓ نے پرانے غلاف کو اتار کر نیا غلاف چڑھانے کا حکم دیا۔ خط دیوانی ایجاد کیا اور رقوم کو الفاظ کی صورت میں لکھنے کا طریقہ پیدا کیا۔ انتظامیہ کو بلند تر بنایا اور انتظامیہ کو عدلیہ میں مداخلت سے روک دیا، آپؓ نے دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا، آپؓ نے بیت المال سے تجارتی قرضے بغیر اشتراک و نفع کے جاری کر کے تجارت و صنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کیے، سرحدوں کی حفاظت کے لیے قدیم قلعوں کی مرمت کر کے اور چند نئے قلعے تعمیر کرا کر اس میں مستقل فوجیں متعین کیں اور 22 رجب المرجب 60ھ میں کاتب وحی، جلیل القدر صحابی رسولﷺ، فاتح شام و قبرص اور 19 انیس سال تک 64 لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے سیدنا حضرت امیر معاویہؓ 78 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ حضرت ضحاک بن قیسؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور دمشق کے باب الصغیر میں دفن کیے گئے مقررین نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ تمام خلفائے راشدین اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا یوم وفات 22 رجب المرجب کو عام تعطیل کر کے سرکاری سطح پہ منایا جائے ۔





































Visit Today : 449
Visit Yesterday : 533
This Month : 6742
This Year : 54578
Total Visit : 159566
Hits Today : 2790
Total Hits : 718735
Who's Online : 3





















