ملتانی عوام کا درد: دھواں چھوڑتی بسیں اور ادھورے وعدے
ملتانی عوام کا درد: دھواں چھوڑتی بسیں اور ادھورے وعدے
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملتان اولیاء کا شہر ہے جس کی تاریخی عظمت اور ثقافتی ورثہ پاکستان کے نقشے پر نمایاں مقام رکھتا ہے مگر جب بات شہری سہولتوں کی ہو خاص طور پر ٹرانسپورٹ کے نظام کی تو ملتانی عوام کے حصے میں مایوسی زیادہ اور سہولت کم آئی ہے لاہور گوجرانوالہ راجن پور بہاولپور اور دیگر شہروں میں الیکٹرک بسوں کا شور ہے مگر ملتان کے عوام اب بھی دھواں چھوڑنے والی پرانی میٹرو فیڈر بسوں کے رحم و کرم پر ہیں یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ آخر کھٹارا دھواں چھوڑنے والی فیڈر بسوں سے ملتانیوں کا کب جان چھوٹے گی پنجاب حکومت نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ صوبے میں 1500 الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی لاہور اور گوجرانوالہ کو پہلے مرحلے میں ترجیح دی گئی جہاں سینکڑوں بسیں سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں جنوبی پنجاب کے کئی شہروں میں بھی بسیں پہنچ چکی ہیں لیکن ملتان کے حصے میں صرف وعدے اور منصوبے آئے حکومت نے ملتان کے لیے 295.26 ملین روپے کے منصوبے منظور کیے جن میں بس شیلٹرز اور اسٹاپس کی تعمیر شامل ہے مگر سوال یہ ہے کہ جب بسیں ہی نہیں چل رہیں تو یہ شیلٹرز کس کام کے میٹرو فیڈر بسیں جو کبھی شہری سہولت کے نام پر متعارف کرائی گئی تھیں آج ملتانی عوام کے لیے اذیت بن چکی ہیں ان بسوں سے نکلنے والا کالا دھواں نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ شہریوں کی صحت کے لیے بھی خطرہ ہے شور اور پرانی مشینری کی خرابی روزانہ کے سفر کو کربناک بنا دیتی ہے خواتین بزرگ اور طلبہ کے لیے یہ بسیں سہولت کے بجائے زحمت بن چکی ہیں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملتان میں اب تک جو چند بس شیلٹرز بنے ہیں وہ حکومت کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے تعمیر ہوئے ہیں کمشنر ملتان نے صرف دو شیلٹرز کا افتتاح کیا ہے مزید دو یا تین زیرِ تکمیل ہیں باقی منظور شدہ شیلٹرز کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں حقیقت میں حکومت نے ملتان کے بہت سے منصوبے صرف ملتان ایونیو تک محدود رکھے ہیں وہاں چند شیلٹرز اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نظر آتی ہے مگر باقی شہر اور گردونواح کے علاقے ان سہولتوں سے محروم ہیں گویا پورے ملتان کو جدید ٹرانسپورٹ کا حق دینے کے بجائے صرف ایک مخصوص ایونیو کو نمائشی طور پر چمکایا جا رہا ہے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ملتان میں پہلے بھی کئی منصوبے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے مکمل کیے گئے آج بھی بس شیلٹرز اسی تعاون سے بن رہے ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ حکومت نے جو کروڑوں روپے منظور کیے تھے وہ کہاں گئے عوامی سہولت کے منصوبے نجی تعاون پر کیوں منحصر ہیں کیا حکومت صرف اعلان کرتی ہے اور عملی فنڈز کہیں اور استعمال ہو جاتے ہیں یہ سوال ملتانی عوام کے دلوں میں گونج رہا ہے اور جواب مانگ رہا ہے دنیا بھر میں الیکٹرک بسیں شہری ٹرانسپورٹ کا مستقبل سمجھی جا رہی ہیں یہ نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ آرام دہ جدید سہولتوں سے مزین اور کم خرچ بھی ہیں لاہور اور گوجرانوالہ کے شہری آج ان بسوں کے مزے لے رہے ہیں مگر ملتان کے عوام حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ملتانی عوام کا سوال بالکل جائز ہے کیا ملتان کو ہمیشہ دوسرے درجے کا شہر سمجھا جائے گا جب لاہور اور دیگر شہروں میں جدید سہولتیں پہنچ سکتی ہیں تو ملتان کیوں محروم ہے ملتانی عوام کے دل میں ایک ہی سوال ہے اور ایک ہی مطالبہ آخر کھٹارا دھواں چھوڑنے والی میٹرو فیڈر بسوں سے ملتانیوں کا کب جان چھوٹے گی یہ سوال صرف عوامی جذبات نہیں بلکہ ایک اجتماعی مطالبہ ہے حکومت کو چاہیے کہ وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کرے ملتان کے عوام کو بھی وہی سہولتیں ملنی چاہئیں جو لاہور اور دیگر شہروں کے شہریوں کو حاصل ہیں ملتان کی گلیوں میں دھواں چھوڑتی بسوں کا منظر اب ختم ہونا چاہیے عوام کو جدید ماحول دوست اور آرام دہ سفر کا حق ہے اگر حکومت نے اس مطالبے کو نظرانداز کیا تو یہ صرف ملتان کے عوام کی محرومی نہیں بلکہ پورے جنوبی پنجاب کی محرومی ہوگی ملتانی عوام کا سوال حکومت کے لیے چیلنج ہے اور اس کا جواب صرف ایک ہے الیکٹرک بسیں۔






































Visit Today : 447
Visit Yesterday : 533
This Month : 6740
This Year : 54576
Total Visit : 159564
Hits Today : 2748
Total Hits : 718693
Who's Online : 3





















