شکایت شہری کی، فیصلہ پولیس کا—تو پھر وزیراعلیٰ شکایت سیل کیوں؟
شکایت شہری کی، فیصلہ پولیس کا—تو پھر وزیراعلیٰ شکایت سیل کیوں؟
تحریر: کلب عابد خان
رابطہ: 03009635323
وزیرِ اعلیٰ پنجاب شکایت سیل بظاہر ایک جدید اور عوام دوست آن لائن شکایت پورٹل سروس ہے، جس کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ عام شہری کو گھر بیٹھے اپنی شکایت درج کرنے کا حق حاصل ہو اور اسے دفاتر، تھانوں اور سرکاری راہداریوں کے چکر نہ لگانا پڑیں۔ یہ تصور اپنی جگہ قابلِ تعریف ہے، کیونکہ ڈیجیٹل نظام شفافیت، رفتار اور جواب دہی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے عملی صورتحال اس دعوے سے خاصی مختلف نظر آتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وزیراعلیٰ شکایت سیل پر درج ہونے والی بڑی تعداد میں شکایات میرٹ پر حل ہونے کے بجائے محض فائل نمٹانے کی نذر ہو جاتی ہیں۔ شہری اپنی شکایت پوری تفصیل، شواہد اور قانونی نکات کے ساتھ درج کرتا ہے، مگر جواب میں اکثر ایک ایسی رپورٹ لگا دی جاتی ہے جو یا تو نامکمل ہوتی ہے یا زمینی حقائق کے برعکس۔ اس کے بعد شکایت کو “حل شدہ” یا “بند” ظاہر کر دیا جاتا ہے، حالانکہ درخواست گزار کو عملاً کوئی ریلیف نہیں ملا ہوتا۔
خاص طور پر محکمہ پولیس سے متعلق شکایات میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ اندراجِ مقدمہ (FIR) جیسے بنیادی اور آئینی حق کے لیے بھی شہری کو وزیراعلیٰ شکایت سیل کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہاں بھی وہی روایتی رویہ دیکھنے کو ملتا ہے—غلط رپورٹ، رسمی کارروائی اور آخرکار شکایت کا خاتمہ۔
ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات شہری کی ذاتی حاضری، متعلقہ افسران سے ملاقات اور تحریری وضاحت کے باوجود شکایت کو “غیر حاضری” یا “عدم پیروی” جیسے الفاظ استعمال کر کے بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ پورے شکایتی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر وزیراعلیٰ شکایت سیل ایک آن لائن پورٹل ہے تو پھر شکایت کے فیصلے میں درخواست گزار کا مؤقف کیوں ثانوی سمجھا جاتا ہے؟ کیوں صرف محکمانہ رپورٹ کو حتمی مان لیا جاتا ہے، چاہے وہ رپورٹ غلط، جانبدارانہ یا غیر متعلقہ ہی کیوں نہ ہو؟ ایک مؤثر شکایتی نظام وہی ہوتا ہے جہاں دونوں فریقین کو سنا جائے اور فیصلہ میرٹ پر ہو، نہ کہ طاقتور ادارے کے حق میں۔
محکمہ پولیس کی جانب سے مختلف اضلاع میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں سی پی او، ڈی پی او اور دیگر سینئر افسران موجود ہوتے ہیں۔ مگر یہ کھلی کچہریاں بھی اکثر نمائشی بن کر رہ گئی ہیں۔ اگر واقعی عوامی مسائل حل کرنا مقصود ہو تو ان کچہریوں میں وزیراعلیٰ شکایت سیل پر درج زیرِ التوا اور بند کی گئی شکایات کی فہرست پیش کی جائے اور انہی درخواست گزاروں کو بلا کر ان کے مسائل کا براہِ راست ازالہ کیا جائے۔ محض چند منتخب افراد کی بات سن کر تصویری خبریں بنوانا مسئلے کا حل نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب شکایت سیل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر ضلع میں ایک تجربہ کار، غیر سیاسی اور بااختیار افسر تعینات کیا جائے، جس کا کام صرف شکایات کو نمٹانا نہیں بلکہ ان کا حقیقی اور عملی حل یقینی بنانا ہو۔ ایسا افسر جو نہ تو سیاسی دباؤ میں آئے، نہ ہی محکمانہ اثر و رسوخ کے آگے بے بس ہو۔
آج کی صورتحال یہ ہے کہ شہری پولیس کے رویے اور شکایات کے غیر مؤثر ازالے سے تنگ آ کر عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ سیشن عدالتوں میں دفعہ 22-A اور 22-B کی درخواستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انتظامی سطح پر انصاف فراہم نہیں ہو پا رہا۔ یہ نہ صرف عدالتی نظام پر بوجھ ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ناکامی کا





































Visit Today : 449
Visit Yesterday : 533
This Month : 6742
This Year : 54578
Total Visit : 159566
Hits Today : 2798
Total Hits : 718743
Who's Online : 4





















