جب مادر علمی میں زندگی ہارنے لگے

تحریر: ایس پیرزادہ

یونیورسٹی آف لاہور میں ایک ہی وقت میں دو کم عمر طلبہ کا خودکشی کی کوشش کرنا محض ایک خبر نہیں یہ ایک ایسا المیہ ہے جو پورے تعلیمی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے سوال یہ نہیں کہ یہ بچے کمزور تھے اصل سوال یہ ہے کہ انہیں اتنا مجبور کس نے کیا کہ زندگی سے بھاگنے کا راستہ ہی واحد حل نظر آیا کیا ہم واقعی یہ ماننے کو تیار ہیں کہ سترہ اٹھارہ سال کے بچے بغیر کسی وجہ کے موت کو گلے لگانے کا سوچ لیتے ہیں یا پھر ہم آنکھیں بند کر کے اس نظام کو بچانا چاہتے ہیں جو مسلسل ایسے سانحات کو جنم دے رہا ہے آج کی جامعات میں علم کم اور دباؤ زیادہ ہے تعلیم کم اور کاروبار زیادہ ہے نجی یونیورسٹیز خصوصاً ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں جہاں طلبہ کو طالب علم نہیں بلکہ نمبر فیس اور منافع سمجھا جاتا ہے منظور شدہ نشستوں سے کہیں زیادہ داخلے دیے جاتے ہیں خوش نما دعووں اور سہانے خوابوں کے ذریعے بچوں اور والدین کو متوجہ کیا جاتا ہے مگر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو وہی بچے ایڈجسٹمنٹ کے نام پر فیل کیے جاتے ہیں ذہنی دباؤ میں مبتلا رکھے جاتے ہیں اور مستقبل کے خوف سے دوچار کر دیے جاتے ہیں یہ تعلیمی عمل نہیں یہ ایک منظم ذہنی اور معاشی استحصال ہے یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہر وہ شخص جو استاد یا انتظامی عملے کے بھیس میں یونیورسٹی کے اندر موجود ہے واقعی اس مقدس ذمہ داری کا اہل ہے یا پھر کچھ ایسے عناصر بھی ہیں جن کے رویّے زبان اور طاقت کے غلط استعمال کو ادارہ جاتی خاموشی حاصل ہے اگر ایسا نہیں تو پھر بار بار ایک جیسے واقعات کیوں جنم لے رہے ہیں اور کیوں ہر بار متاثرہ خاندان کو ہی خاموش کرا دیا جاتا ہے
سمسٹر سسٹم کو ترقی اور معیار کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے مگر عملی طور پر یہی سسٹم طلبہ اور اساتذہ دونوں کو ذہنی طور پر تھکا اور توڑ چکا ہے مسلسل امتحانات گریڈنگ کا دباؤ، ایک مضمون میں ناکامی کو پوری زندگی کی ناکامی بنا کر پیش کرنا کم عمر ذہنوں کو شدید ڈپریشن کی طرف دھکیل دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب سنجیدہ حلقوں میں یہ آواز اٹھ رہی ہےr کہ سمسٹر سسٹم کے بجائے ٹرم سسٹم پر دوبارہ غور کیا جائے تاکہ تعلیم کو سانس لینے کی گنجائش دی جا سکے
اساتذہ اور طلبہ کے درمیان وہ رشتہ جو کبھی اعتماد شفقت اور رہنمائی پر مبنی ہوتا تھا اب خوف اور فاصلے میں بدل چکا ہے استاد اگر سوال کرنے پر تضحیک کرے کمزور طالب علم کو نشانہ بنائے یا نتائج کو سزا بنا دے تو وہ رویّہ تعلیم نہیں تباہی پیدا کرتا ہے ایسے ماحول میں پلنے والا طالب علم علم حاصل نہیں کرتا وہ صرف کسی طرح بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہے
یہ معاملہ کسی ایک یونیورسٹی یا دو طلبہ تک محدود نہیں یہ ایک اجتماعی ناکامی ہے جس پر ریاست تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں سب کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کو اس معاملے کو محض ایک خبر یا حادثہ سمجھنے کے بجائے ایک وارننگ کے طور پر لینا ہوگا اگر آج اصلاح نہ کی گئی تو کل ایسے واقعات معمول بن جائیں گے اور ہم ہر بار صرف افسوس کے الفاظ دہرا کر آگے بڑھتے رہیں گے
جامعات کا وقار پریس کانفرنسوں اور خوش کن بیانات سے بحال نہیں ہوتا اس کے لیے اندرونی احتساب شفافیت اور ان عناصر کو نکالنا ضروری ہے جو مادر علمی کے تقدس کو نقصان پہنچا رہے ہیں تعلیم زندگی دیتی ہے اگر وہی تعلیم موت کی طرف دھکیلنے لگے تو خاموشی جرم بن جاتی ہے
یہ تحریر کسی ادارے کے خلاف نہیں یہ ان بچوں کے حق میں ہے جو ابھی جینا چاہتے تھے جو سیکھنا چاہتے تھے مگر نظام نے انہیں اتنا اکیلا کر دیا کہ زندگی ان پر بھاری پڑ گئی اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم سنیں گے یا پھر اگلی خبر کا انتظار کریں گے