اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب: سہولت کے نام پر مایوسی کا نظام
اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب: سہولت کے نام پر مایوسی کا نظام
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
اوورسیز پاکستانی پاکستان کی معیشت، وقار اور عالمی شناخت کا اہم ستون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دیارِ غیر میں رہ کر بھی پاکستان کو نہیں بھولتے، اپنی محنت کی کمائی وطن بھیجتے ہیں اور ہر مشکل وقت میں ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں۔ مگر جب یہی اوورسیز پاکستانی اپنے جائز حقوق کے لیے پاکستان کے سرکاری اداروں سے رجوع کرتے ہیں تو انہیں انصاف کے بجائے مایوسی، تاخیر اور بے حسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب کا قیام بظاہر ایک خوش آئند قدم تھا۔ عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ اب بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں حل ہوں گے۔ لیکن زمینی حقائق اس دعوے کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں۔ یہ ادارہ عملاً ایک اختیار سے محروم ڈاک خانہ بن چکا ہے، جہاں شکایت آتی ہے اور بغیر کسی ٹھوس کارروائی کے آگے بھیج دی جاتی ہے۔
جونہی کوئی شکایت درج ہوتی ہے، اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ اوورسیز کمیٹی کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ کمیشن خود نہ تو شکایت گزار کو سنتا ہے، نہ فریقین کو طلب کرتا ہے، اور نہ ہی رپورٹ کی سچائی جانچنے کی زحمت گوارا کرتا ہے۔ ڈسٹرکٹ کمیٹیوں کا حال اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے، جہاں اکثر شکایات غلط، من گھڑت اور حقائق کے برعکس رپورٹس کی بنیاد پر نمٹا دی جاتی ہیں۔
سب سے سنگین مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شکایت غلط رپورٹ پر بند کر دی جائے، اور شکایت گزار اوورسیز پاکستانی نئے شواہد، نئے حقائق اور نئے انداز میں بار بار شکایت درج کروائے، تب بھی اس کی شنوائی نہیں ہوتی۔ ہر بار وہی پرانی روش اپنائی جاتی ہے، وہی افسر، وہی رپورٹ، اور وہی فیصلہ: “شکایت حل ہو چکی ہے”۔ گویا شکایت کو دوبارہ دیکھنا ہی جرم سمجھ لیا گیا ہو۔
یہ رویہ نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ریاستی اداروں کی نیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اگر شکایت کا فیصلہ انہی افسران کی رپورٹ پر ہونا ہے جن کے خلاف شکایت ہے، تو پھر شکایت درج کروانے کا فائدہ کیا؟ یہ نظام عوام کو سہولت دینے کے بجائے انہیں خاموش کرانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے گزشتہ برسوں میں عوامی سہولت کے نام پر متعدد ادارے قائم کیے—کبھی کمیشن، کبھی اتھارٹی، کبھی پورٹل—مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر ادارے جوابدہی سے آزاد ہیں۔ نہ ان کی کارکردگی کا مؤثر آڈٹ ہے، نہ غلط فیصلوں پر کسی کو سزا، اور نہ ہی عوام کے سامنے جواب دینے کی روایت۔ یہی وجہ ہے کہ شہری، خصوصاً اوورسیز پاکستانی، دن بدن مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت عوام کے مسائل کے حل کے لیے فکر مند ہے۔ بیانات، اشتہارات اور تقریروں میں عوام دوستی نمایاں نظر آتی ہے، مگر عملی طور پر یہی پالیسیاں اور یہی ادارے عوام کو نقصان پہنچاتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاخیر، غلط رپورٹس، شکایات کی بندش، اور جوابدہی کا فقدان—یہ سب عوامی خدمت نہیں بلکہ عوامی استحصال کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اوورسیز پاکستانی کوئی رعایت نہیں مانگتے، وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بات سنی جائے، ان کے شواہد کو دیکھا جائے، اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو ضروری ہے کہ:
اوورسیز پاکستانی کمیشن کو خودمختار انکوائری کے اختیارات دیے جائیں
شکایت دوبارہ کھولنے (Re-open) کا واضح اور شفاف طریقہ کار بنایا جائے
ڈسٹرکٹ اوورسیز کمیٹیوں کی رپورٹس کی آزادانہ جانچ ہو
غلط رپورٹ دینے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے
شکایت گزار کو فیصلہ ہونے سے قبل لازمی سنا جائے
جب تک یہ اصلاحات نہیں ہوتیں، ایسے ادارے عوام کے لیے سہولت نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے بڑھانے کا سبب بنتے رہیں گے۔ ریاست کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہوتا ہے، اور اگر یہی اعتماد ٹوٹ جائے تو ادارے صرف عمارتیں رہ جاتے ہیں۔
یہ تحریر کسی ایک شخص کی نہیں، بلکہ ہر اس شہری اور ہر اس اوورسیز پاکستانی کی آواز ہے جو انصاف کے لیے بار بار دروازہ کھٹکھٹا کر بھی جواب سے محروم ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا حکومتِ پنجاب واقعی سننا چاہتی ہے؟





































Visit Today : 449
Visit Yesterday : 533
This Month : 6742
This Year : 54578
Total Visit : 159566
Hits Today : 2799
Total Hits : 718744
Who's Online : 4





















