ملتان: سیاسی رسہ کشی ختم، سرائیکستان بنائو پالیسی اپنائی جائے۔ بارہ صوبوں کا شوشہ سرائیکی صوبے کی تحریک کو دبانے کیلئے چھوڑا گیا۔ ضیاء الحق نے ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کا شوشہ چھوڑا، آٹھویں ترمیم پاس، بالکل اسی طرح جس طرح 27 ویں ترمیم پاس کرائی گئی۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین سرائیکستان ڈیمو کریٹک پارٹی رانا محمد فراز نون، عنایت اللہ مشرقی، سید مطلوب حسین شاہ بخاری، ڈاکٹر ظفر ہانس، اظہر شاہ بخاری، عبدالمجید عباسی ، شاہنواز جانگلہ اور شاہد کوکب نے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قوموں کا ملک ہے، سرائیکی سب سے بڑی قومیت ہے اور اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سرائیکی صوبے کا قیام ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن دونوں مل کر سرائیکی قومی مسئلے کو نظر انداز کریں گی تو پھر ہم ان دونوں کے خلاف سراپا احتجاج ہوں گے۔ رنجیت سنگھ کے قبضے کے بعد سرائیکی وسیب کے نوجوانوں کی آٹھ نسلیں تباہ ہو چکی ہیں، اب ہم مزید خاموش نہیں رہیں گے اور اپنی آئندہ آنے والی نسل کا مستقبل محفوظ کرنے کیلئے ہر صورت صوبہ سرائیکستان لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی خطہ ذرخیز ہونے کے ساتھ ساتھ مردم خیز بھی ہے اور تہذیب و ثقافت کی دولت سے مالا مال ہے۔ وقت آگیا ہے کہ انگریز سامراج کی طرف سے کھینچی گئی غلط لکیریں اور بے ہودہ صوبائی حد بندیاں ختم کی جائیں۔ ہمارے وسیب کا قدم قدم پر استحصال ہو رہا ہے۔ وسائل لوٹے جار ہے ہیں۔ ملازمتوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ وسیب کے بیروزگار دوسرے صوبوں میں جاتے ہیں وہاں پنجاب کے نام پر قتل کر دیئے جاتے ہیں۔ بارہ صوبوں کی نہیں فوری طور پر سرائیکی صوبے کے قیام کی ضرورت ہے۔ سرائیکی رہنمائوں نے کہا کہ (ن) لیگ کو سرائیکی دشمن رویہ ترک کرنا ہو گا۔ صوبے کے نام پر لولی پاپ دیئے جا رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وسیب کی مکمل حدود اور شناخت پر مشتمل صوبہ سرائیکستان بنایا جائے۔ جب تک صوبہ نہیں بنے گا خاموش نہیں رہیں گے کہ اب پورا وسیب جاگ چکا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں صوبہ سرائیکستان کی منزل سے نہیں روک سکتی۔