ملتان : بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے لیے سگنیفائی کنسلٹنگ کے زیر اہتمام لاسال پیرش چرچ، ملتان میں ایک بین المذاہب ظہرانے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسلم، مسیحی اور ہندو مذہبی رہنماؤں سمیت سماجی کارکنان نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد مختلف مذاہب کے درمیان محبت، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ کو اجاگر کرنا تھا۔ ظہرانے میں شریک مذہبی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام مذاہب انسانیت کی خدمت، امن اور ہم آہنگی کی تعلیم دیتے ہیں۔ انہوں نے معاشرتی یکجہتی، برداشت اور مذہبی احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک پرامن اور مساوات پر مبنی معاشرے کے قیام پر زور دیا۔ کیتھولک پادری، فادر رفائیل (پاسٹورل انسٹی ٹیوٹ، ملتان) نے کہا: ”ہر مذہب مکالمے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ تمام مقدس کتابوں میں سب سے پہلا درس خدا کی فرمانبرداری ہے۔ خدا نے ہر انسان کو منفرد بنایا ہے، لیکن ہم سب اس کی مخلوق ہیں، لہٰذا ہمیں ایک دوسرے سے محبت اور خیال رکھنا چاہیے۔ مسلم اسکالر، علامہ سید مجاہد عباس گردیزی نے کہا: ”اسلام امن کا مذہب ہے، اور اس کی بنیادی تعلیم ‘جیو اور جینے دو’ پر مشتمل ہے۔ واقعہ کربلا میں بھی مذہبی تنوع کا عنصر نظر آتا ہے، جو ہمیں ایک دوسرے کو قبول کرنے اور عزت دینے کا درس دیتا ہے۔” ہندو رہنما، ڈاکٹر کشور مراد کشور نے کہا: ”ہندو مذہب امن کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ تمام انسان خدا کے نائب ہیں، اور ہمیں اس کے زمین پر محبت اور ہم آہنگی پھیلانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ پروفیسر عبد الماجد وٹو نے کہا: ”اسلام ہر فرد کے ساتھ محبت اور عزت کا درس دیتا ہے، چاہے اس کا مذہب کچھ بھی ہو۔ تمام انسان اللہ کی تخلیق ہیں، اور ان کا احترام دراصل اللہ کا احترام ہے۔ وسیم شمون، دی لاسال اسکول، ملتان نے کہا: ”ہمارے اسکول میں مختلف مذاہب کے طلباء بغیر کسی امتیاز کے ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ہم عید اور کرسمس سمیت مختلف مذہبی تہوار مناتے ہیں، تاکہ تنوع اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔ اس موقع پر سگنیفائی کنسلٹنگ کے سی ای او زین بلوچ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں اختلافات کو کم کرنے اور امن و محبت کو فروغ دینے کے لیے ہمیں تمام مذاہب کے درمیان مشترکہ اقدار کو اجاگر کرنا ہوگا۔ یہ تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہم ایک دوسرے کو سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش کریں، تو ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کر سکتے ہیں جہاں مذہب، رنگ، نسل اور زبان سے بالاتر ہو کر سب کو برابری کے حقوق حاصل ہوں انہوں نے مزید کہا کہ ”سگنیفائی کنسلٹنگ ہمیشہ ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی رہے گی جو بین المذاہب رواداری، برداشت اور سماجی یکجہتی کو فروغ دیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی رہنماؤں کا کردار امن، ہم آہنگی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور اسی لیے ظہرانے کے بعد شجرکاری مہم کا انعقاد کیا گیا، تاکہ مذہبی رہنما اپنے پیروکاروں میں ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت اجاگر کر سکیں۔ ظہرانے کے بعد، مذہبی رہنماؤں اور شرکاء نے شجرکاری مہم میں حصہ لیا، تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات میں مذہبی رہنماؤں کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس موقع پر تمام مذاہب کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دیں گے