آپریشن غضب للحق — قومی خودمختاری کا دوٹوک پیغام

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

خطے میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں “آپریشن غضب للحق” کے نام سے سامنے آنے والی اطلاعات نے قومی منظرنامے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی مبینہ جارحیت کے جواب میں کی گئی ایک منظم اور بھرپور عسکری حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرحدی سالمیت کا تحفظ اور ریاستی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے، اگر یہ تفصیلات درست ہیں تو یہ واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حدود کے دفاع میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا پوری قوت سے جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مؤثر جوابی حملوں میں بہتر افغان خارجی ہلاک جبکہ ایک سو بیس سے زائد زخمی ہوئے، سولہ افغان سرحدی چوکیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں اور سات چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا، مزید یہ کہ ایک بڑا اسلحہ ذخیرہ، تین افغانی بریگیڈ سطح کے دستے اور ایک سیکٹر ہیڈکوارٹر مکمل طور پر تباہ کیے گئے، اسی طرح چھتیس سے زائد ٹینک، بھاری توپیں اور بکتر بند گاڑیاں نشانہ بنا کر تباہ کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جبکہ شدت سے مزید جوابی حملے جاری ہونے کی بات کی جا رہی ہے، اگر یہ تمام دعوے درست ہیں تو یہ محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ ایک بھرپور اور فیصلہ کن عسکری ردعمل کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ مہارت، انٹیلی جنس ہم آہنگی اور جدید جنگی حکمت عملی ماضی میں بھی دہشت گردی اور سرحدی خطرات کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہے اور اسی تسلسل میں اگر یہ کارروائی کی گئی ہے تو اس کا بنیادی مقصد جارحیت نہیں بلکہ دفاع اور بازدار قوت کا قیام ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی مہم جوئی کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ تاہم قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ جنگی دعوؤں اور اعداد و شمار کو حتمی سچ کے طور پر قبول کرنے سے پہلے باضابطہ سرکاری اعلامیوں اور مستند ذرائع کا انتظار کیا جائے کیونکہ جدید دور میں اطلاعاتی جنگ بھی ایک حقیقت ہے جہاں مبالغہ آمیز یا غیر مصدقہ خبریں تیزی سے پھیل کر عوامی ذہن سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، دشمن قوتیں بھی ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا کر نفسیاتی دباؤ بڑھانے اور بیانیہ تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ جذبات کے بجائے شعور اور تحقیق کو مقدم رکھا جائے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ کسی بھی عسکری کارروائی کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ سفارتی، معاشی اور انسانی پہلوؤں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، سرحدی کشیدگی تجارت، علاقائی روابط اور عالمی سطح پر تاثر کو متاثر کر سکتی ہے، اسی لیے ایک ذمہ دار ریاست طاقت اور حکمت کے توازن کو برقرار رکھتی ہے، پاکستان کی دفاعی پالیسی بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی ہے مگر جب ریاستی خودمختاری کو چیلنج کیا جائے تو جواب دینا ناگزیر ہو جاتا ہے اور یہی عالمی قوانین کے مطابق ہر خودمختار ریاست کا حق بھی ہے۔ اگر واقعی “آپریشن غضب للحق” کے تحت اتنی بڑی عسکری کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں تو یہ پاکستان کی دفاعی تیاری اور پیشہ ورانہ برتری کا ثبوت ہوں گی، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہوتی ہے اور پائیدار استحکام ہمیشہ ذمہ دارانہ فیصلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ قوم کی نظریں اپنی افواج پر ہوتی ہیں اور افواج کی طاقت قوم کے اتحاد سے بڑھتی ہے، جب عوام اپنے اداروں پر اعتماد کرتے ہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ سے گریز کرتے ہیں تو داخلی استحکام مضبوط ہوتا ہے جو کسی بھی بیرونی چیلنج کے مقابلے میں سب سے بڑی ڈھال ہے، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سلامتی صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اتحاد، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہے۔ آج کے نازک مرحلے پر ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مفاد کو ہر سیاسی اور جذباتی تقسیم سے بالاتر رکھا جائے، اختلاف رائے جمہوری معاشرے کا حسن ہے مگر ریاستی خودمختاری اور سلامتی کے معاملات میں ہم آہنگی ناگزیر ہے، پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر امن کی بنیاد رکھی ہے، اسی پس منظر میں اگر کوئی بھی جارحیت کی کوشش کرے گا تو اسے مؤثر جواب ملنا فطری امر ہے۔ “آپریشن غضب للحق” کا بیانیہ اگر حقیقت پر مبنی ہے تو یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان دفاعی صلاحیت، عزم اور تیاری کے لحاظ سے کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، اور اگر اس میں کسی درجے کی مبالغہ آرائی شامل ہے تو بھی یہ صورتحال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اطلاعاتی جنگ کے دور میں ذمہ دارانہ صحافت اور قومی شعور کی کتنی اہمیت ہے۔ بالآخر مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو طاقت رکھتے ہوئے بھی حکمت کا دامن نہ چھوڑے، جو دفاع کرے مگر امن کی راہ بھی کھلی رکھے، اور جو اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے، پاکستان اسی اصول پر قائم ہے اور رہے گا۔