ملتان :  کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب و بین الکلیسائی مکالمہ پاکستان کے زیر اہتمام کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے کے خلاف بشپ ہاو ¿س ملتان میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت کمیشن کے چیئرمین اور بشپ آف ملتان، بشپ یوسف سوہن نے کی ریلی میں کمیشن کے نیشنل ڈائریکٹر سیموئیل کلیمنٹ، فادر ڈینیئل تاج ،فادر فرحان ،فادر سلمان ارجن،فادر وجے،سسٹر سمیرا،سسٹر ٹامسینا،بابو آصف ،بابو سنی، امروز گل ،سرفراز کلیمنٹ ،شازر گل ،کاشف رضا گل ،عابد پالوس سمیت مسیحی برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی شرکاءنے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب کے خلاف نعرے درج تھے، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بشپ یوسف سوہن نے کہا کہ کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب جیسے حساس مسائل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں ماریہ شہباز اور اس کی فیملی کو فوری انصاف دیا جائے انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے معاشرے کے کمزور طبقات خصوصاً اقلیتوں کے تحفظات میں اضافہ کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور ایسے قوانین متعارف کروائیں جو ہر شہری کو بلا امتیاز مذہب و عمر تحفظ فراہم کریں اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان میں بسنے والے اقلیتیوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور وہ ایک بار پھر عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیںانہوں نے وزیر اعظم پاکستان آرمی چیف پاکستان اور چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتی کمیونٹی کے خلاف آنے والے فیصلے واپس لیں تاکہ پاکستان میں بسنے والے اقلیتی برادری سکون کا سانس لین سکیں اس موقع پر سیموئیل کلیمنٹ نے بھی اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل کا سنجیدگی سے تدارک کیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے قانون سازی کو مزید مو ¿ثر بنایا جائے ریلی کے اختتام پر شرکاءنے پرامن انداز میں اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔