ملتان : کلریکل سٹاف اور تمام سرکاری ملازمین کی ایسوسی ایشنوں کی ہڑتال غیر قانونی ہے CBA یونینز کے علاوہ سرکاری ملازمین اور آئین پاکستان اور جائنٹ سٹاک کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ اور پیڈا ایکٹ 2006 ء کے تحت ہڑتال کا حق نہیں ہے بلکہ سول سرونٹ کی غیر قانونی ہڑتال کی سزا ملازمت سے برطرفی ہے جس کے لئے کسی چارج شیٹ/ انکوائری/ شو کاز نوٹس کی ضرورت نہیں ہے ان خیالات کا اظہار عوامی احتساب سیل و نیشنل لیبر الائنس کے مرکزی چیئرمین غازی احمد حسن کھوکھر نے سرکاری ملازمین کی حالیہ ہڑتال پر آئین پاکستان اور قانونِ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا غازی احمد حسن کھوکھر نے کہا کہ یہی کلرک ٹریڈ یونینز کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں اور لیبر عدالتوں میں ٹریڈ یونینز راہنماؤں کے خلاف ڈیوٹی پر لیٹ آنے ہڑتال کی دھمکیوں بارے پیڈاایکٹ 2006ء کے تحت کاروائیوں کے نوٹس تیار کر کے افسران کو مس گائیڈ کرتے اور سرکاری ملازمین بارے رجسٹرڈ یونینز کے حق کو تسلیم نہیں کرتے حالانکہ آئین پاکستان اور لیبر قوانین پاکستان ( آئی ایل او ) کا ممبر ہوتے ہوئے صرف رجسٹرڈ یونینز کو ریفرنڈم/ ڈیمانڈ نوٹس دینے/ ہڑتال نوٹس دینے/ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر ہڑتال کا قانونی حق فراہم کرتا ہے غازی احمد حسن کھوکھر نے کہا جو سرکاری ملازمین ہڑتال کرتے ہیں وہ صریحاً غیر قانونی ہے اور وہ غیر حاضر ہیں مگر کیوں یا سرکار دانستہ یا لا علمی اس بارے چشم پوشی سے کام لے رہی ہے انھوں نے کہا کہ اس وقت صرف سرکاری ملازمین کے خود ساختہ لیڈروں کو ذاتی فوائد ملازمین کی طرف سے فنڈز اور سیر سپاٹوں کا ہی فایدہ ہے جبکہ ملازمین کے غصب شدہ حقوق ملنے کے آثار نظر نہیں آ رہے انھوں نے کہا کہ ماضی میں مزدور یونینوں نے ایپکا اور ٹیچرز کا ساتھ دیا تھا آج بھی کلرک خود ہڑتال میں نہیں جاتے بلکہ ہر سرکاری دفاتر سے اکثریت ٹیکنیکل سٹاف مالی چپراسی ،چوکیدار، ڈرائیور سویپرز کی ہوتی ہے اور عہدیداران ہوتے ہیں غازی احمد حسن کھوکھر نے کہا کہ اسحاق ساقی شہید ،، ہدایت یار بخای ، نصرت طور جیسے دانشمند لوگ یہ سب کچھ تسلیم کرتے ہوئے ٹریڈ یونینز کا سہارا لیتے تھے مزدور یونینز نے ان کی خود غرضانہ سوچ کی وجہ سے دوری اختیار کر لی آب ان کی ہڑتالوں سے سرکار کو کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے ملازمین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے