سیف سٹی یا چالان سٹی؟ ترجیحات کا امتحان

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ یکم مارچ سے ملتان سٹی میں ای چالان کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے اور شہریوں کو احتیاط کی تلقین کی جا رہی ہے، بظاہر یہ ایک معمولی انتظامی فیصلہ محسوس ہوتا ہے مگر اس کے پس منظر میں ایک بڑا سوال چھپا ہے کہ کیا ہم واقعی محفوظ شہر کی طرف جا رہے ہیں یا صرف جرمانوں کے نئے نظام کی طرف۔
سیف سٹی کا تصور دنیا بھر میں شہری تحفظ، جرائم کی روک تھام اور ٹریفک نظم و ضبط کے لیے متعارف کرایا گیا تھا اور پنجاب سیف سٹی اتھارٹی بھی اسی مقصد کے تحت قائم کی گئی، کیمرے، مانیٹرنگ سسٹم اور ڈیجیٹل ریکارڈنگ اس لیے لگائے گئے کہ قانون سب پر برابر لاگو ہو، کسی سفارش یا دباؤ کے بغیر، لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال یکطرفہ دکھائی دینے لگے۔
اگر کیمرے صرف چالان کے لیے متحرک ہوں مگر سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہوں، اگر سگنل کام نہ کر رہے ہوں، اگر سٹریٹ لائٹس خراب ہوں، اگر تجاوزات نے راستے تنگ کر رکھے ہوں، اگر ٹریفک مینجمنٹ کمزور ہو، اگر پارکنگ کا کوئی واضح نظام نہ ہو، اگر صفائی ستھرائی اور بنیادی شہری سہولیات نظر انداز ہوں تو پھر شہری کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا ٹیکنالوجی اصلاح کے لیے آئی ہے یا صرف وصولی کے لیے۔
قانون کی پاسداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہیلمٹ نہ پہننا، سیٹ بیلٹ نہ باندھنا، ریڈ سگنل کراس کرنا یا ون وے کی خلاف ورزی کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، لیکن کیا ریاست کی ذمہ داری صرف جرمانہ عائد کرنا ہے یا ماحول کو محفوظ بنانا بھی ہے، اگر سڑک پر گڑھا ہو اور موٹر سائیکل سوار گر جائے تو کیمرہ تو تصویر لے لے گا مگر مرہم کون رکھے گا، اگر حادثہ ہو جائے اور مدد کے لیے فوری رسپانس نہ آئے تو جرمانے کا سخت نظام عوام کے زخموں پر نمک نہیں بن جائے گا۔
ایک وارڈن جب سڑک پر کھڑا ہوتا ہے تو وہ قانون بھی دیکھتا ہے اور حالات بھی، وہ کبھی وارننگ دے دیتا ہے، کبھی سمجھا دیتا ہے، کبھی چھوڑ دیتا ہے، اس میں انسانی عنصر شامل ہوتا ہے، جبکہ کیمرہ ایک مشین ہے جو صرف ضابطہ دیکھتی ہے، نہ حالات جانتی ہے نہ نیت، یہی وجہ ہے کہ شہریوں کو خوف محسوس ہوتا ہے کہ اب کوئی گنجائش نہیں بچے گی، مگر اصل سوال گنجائش کا نہیں بلکہ توازن کا ہے۔
اگر ای چالان کا آغاز کیا جا رہا ہے تو اس سے پہلے بھرپور آگاہی مہم کیوں نہیں چلائی جاتی، اسکولوں، کالجوں، بازاروں اور میڈیا کے ذریعے ٹریفک قوانین کی تربیت کیوں نہیں دی جاتی، ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے نظام کو شفاف اور سخت کیوں نہیں بنایا جاتا، خطرناک ڈرائیونگ کرنے والوں کے لائسنس معطل یا منسوخ کیوں نہیں کیے جاتے، تجاوزات کے خلاف مستقل کارروائی کیوں نہیں ہوتی، سڑکوں کی مرمت اور سٹریٹ لائٹس کی بحالی کو ترجیح کیوں نہیں دی جاتی، کیونکہ قانون کا نفاذ اسی وقت موثر ہوتا ہے جب بنیادی ڈھانچہ بھی مضبوط ہو۔
اگر کسی شہر میں حادثے کی صورت میں ریسکیو اور پولیس بروقت نہ پہنچ سکیں اور عوام ہی ایک دوسرے کا سہارا بنیں تو پھر صرف جرمانوں کی سختی شہری اعتماد کو بحال نہیں کر سکتی، اعتماد تب پیدا ہوتا ہے جب ریاست شہری کو یہ یقین دلائے کہ وہ صرف پکڑنے کے لیے نہیں بلکہ بچانے کے لیے بھی موجود ہے، جب شہری دیکھے کہ کیمرے جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری میں مدد دے رہے ہیں، اغوا یا چوری کی وارداتوں کا سراغ لگا رہے ہیں، خواتین اور بچوں کے تحفظ میں کردار ادا کر رہے ہیں، تب وہ اسے اپنی حفاظت کا ذریعہ سمجھے گا نہ کہ بوجھ۔
سیف سٹی کا مطلب صرف نگرانی نہیں بلکہ سہولت بھی ہے، صرف کنٹرول نہیں بلکہ خدمت بھی ہے، اگر شہری کو صاف سڑک، روشن گلی، منظم ٹریفک، محفوظ فٹ پاتھ اور فوری ایمرجنسی رسپانس ملے تو وہ خود قانون کی پابندی کرے گا، مگر اگر اسے صرف جرمانے کی پرچی ملے اور مسائل جوں کے توں رہیں تو اس کے ذہن میں بدگمانی پیدا ہوگی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ای چالان کے نظام میں شفاف اپیل کا طریقہ کار واضح ہو، اگر غلطی سے کسی کی گاڑی کا نمبر غلط پڑھ لیا جائے یا کوئی تکنیکی خرابی ہو تو شہری کو سنا جائے، انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ نظام جوابدہ بھی ہو، کیونکہ مشین کی غلطی کا بوجھ بھی انسان پر ڈال دینا انصاف نہیں۔
اصل بحث یہ نہیں کہ ای چالان ہونا چاہیے یا نہیں، اصل بحث یہ ہے کہ کیا یہ ایک جامع اصلاحی پیکج کا حصہ ہے یا تنہا قدم، اگر یہ سڑکوں کی بہتری، ٹریفک ایجوکیشن، تجاوزات کے خاتمے اور فوری ایمرجنسی سروس کے ساتھ جڑا ہو تو یقیناً شہر زیادہ محفوظ ہوگا، لیکن اگر یہ صرف ریونیو بڑھانے کا ذریعہ بن جائے تو پھر عوام اسے چالان سٹی کہنے میں حق بجانب محسوس کرے گی۔
ریاست اور شہری کے درمیان تعلق اعتماد پر قائم ہوتا ہے، قانون کی عملداری ضروری ہے مگر یکطرفہ نہیں، شہری سے مکمل اطاعت کی توقع ہے تو ریاست سے مکمل ذمہ داری کی بھی توقع ہوگی، یہ وقت ہے کہ ترجیحات واضح کی جائیں، اگر مقصد واقعی حفاظت ہے تو پہلے سہولت، آگاہی اور اصلاح کو یقینی بنایا جائے پھر سختی کی جائے، کیونکہ محفوظ شہر وہ نہیں ہوتا جہاں جرمانے زیادہ ہوں بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں حادثات کم ہوں، جرائم کم ہوں اور شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔
فیصلہ اب پالیسی سازوں کے ہاتھ میں ہے کہ سیف سٹی کو واقعی محفوظ شہر بنانا ہے یا اسے چالان سٹی کے تاثر سے باہر نکالنا ہے، عوام قانون ماننے کو تیار ہے، شرط صرف اتنی ہے کہ قانون کے ساتھ انصاف، سہولت اور ذمہ داری بھی نظر آئے۔