مہنگی بجلی کا بوجھ اور آئی پی پیز کے معاہدے: عوام کب تک قیمت چکائیں گے؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

پاکستان میں مہنگائی کی ہر نئی لہر کے پیچھے اگر کسی ایک بنیادی عنصر کو تلاش کیا جائے تو وہ بجلی کی قیمت ہے، کیونکہ بجلی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ پوری معیشت کی شہ رگ ہے۔ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے تو صنعت مہنگی پیداوار کرتی ہے، دکاندار اخراجات بڑھا دیتے ہیں، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے اور آخرکار اس کا بوجھ براہِ راست عام آدمی کی جیب پر آ گرتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بجلی کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور اس اضافے کی ایک بڑی وجہ آزاد بجلی گھروں یعنی آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے وہ معاہدے ہیں جنہوں نے قومی خزانے اور عوام دونوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
آئی پی پیز کا تصور 1990 کی دہائی میں متعارف کروایا گیا جب ملک شدید لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران کا شکار تھا۔ اس وقت نجی شعبے کو بجلی پیدا کرنے کی دعوت دی گئی تاکہ فوری طور پر پیداوار بڑھائی جا سکے۔ بظاہر یہ ایک درست قدم تھا کیونکہ صنعتی ترقی کے لیے توانائی کی دستیابی ناگزیر تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاہدے قومی معیشت کے لیے بوجھ بنتے گئے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بجلی مہنگی پیدا ہو رہی ہے بلکہ اصل مسئلہ ان معاہدوں کی شرائط ہیں جن کے تحت حکومت کو بجلی خریدے بغیر بھی صلاحیت کے چارجز ادا کرنا پڑتے ہیں۔
صلاحیت چارجز کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی پلانٹ بجلی پیدا نہ بھی کرے تب بھی اسے ادائیگی کی جائے گی، کیونکہ وہ تیار حالت میں موجود ہے۔ اس نظام نے صورتحال یہ بنا دی کہ جب طلب کم ہوتی ہے تب بھی حکومت اربوں روپے کی ادائیگی کرتی ہے اور یہ رقم بالآخر صارفین کے بلوں میں شامل کر دی جاتی ہے۔ یوں عوام ایک ایسی بجلی کی قیمت بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں جو انہوں نے استعمال ہی نہیں کی۔ یہ مالی دباؤ بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور دیگر مدات کی صورت میں نمایاں نظر آتا ہے۔
پاکستان کا توانائی ڈھانچہ درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، خاص طور پر فرنس آئل، ایل این جی اور کوئلہ۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر براہِ راست ہمارے بلوں پر پڑتا ہے۔ اگر مقامی وسائل جیسے پن بجلی، تھر کول اور قابلِ تجدید ذرائع پر بروقت اور مستقل توجہ دی جاتی تو آج صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔ بدقسمتی سے توانائی کی منصوبہ بندی طویل المدتی وژن کے بجائے وقتی فیصلوں کے تابع رہی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گردشی قرضہ بڑھتا گیا اور بجلی مزید مہنگی ہوتی گئی۔
گردشی قرضہ دراصل اسی نظام کی پیداوار ہے جہاں ایک طرف تقسیم کار کمپنیاں مکمل ریکوری نہیں کر پاتیں اور دوسری طرف حکومت آئی پی پیز کو ادائیگی کی پابند ہوتی ہے۔ جب ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں تو سود اور جرمانے شامل ہو جاتے ہیں، یوں قرض کا حجم بڑھتا رہتا ہے۔ اس قرض کی ادائیگی بھی بالآخر عوام ہی کرتے ہیں، چاہے وہ ٹیکس کی صورت ہو یا بجلی کے نرخوں میں اضافے کی شکل میں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ شفافیت اور توازن کا ہے۔ اگر معاہدے عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں، اگر پیداوار کی حقیقی ضرورت کے مطابق پلانٹس لگائے جائیں اور اگر توانائی مکس میں مقامی اور سستی بجلی کا تناسب بڑھایا جائے تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے پیش رفت کی ہے جس سے لاگت کم ہوئی اور ماحول بھی محفوظ ہوا۔ پاکستان میں بھی سورج اور ہوا جیسے وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں، مگر ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مربوط پالیسی اور سیاسی عزم درکار ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام آئی پی پیز کو یکساں طور پر قصوروار قرار دینا درست نہیں، کیونکہ بعض منصوبوں نے واقعی بجلی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا معاہدوں میں توازن تھا؟ کیا خطرات اور منافع کی تقسیم منصفانہ تھی؟ اگر منافع کی شرح غیر معمولی ہو اور ادائیگیوں کی ضمانت مکمل طور پر ریاست کے ذمے ہو تو پھر یہ معاہدے نجی سرمایہ کار کے لیے تو محفوظ ہو سکتے ہیں مگر ریاست اور عوام کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔
مہنگی بجلی نے صنعتوں کو بھی مشکلات میں ڈالا ہے۔ برآمدات متاثر ہوئی ہیں کیونکہ پیداواری لاگت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ جب فیکٹریاں بند ہوتی ہیں یا پیداوار کم کرتی ہیں تو بے روزگاری بڑھتی ہے اور معاشی سرگرمی سست پڑ جاتی ہے۔ یوں ایک مسئلہ دوسرے مسئلے کو جنم دیتا ہے اور معاشی دباؤ کا ایک دائرہ بن جاتا ہے جس کا سب سے بڑا متاثرہ طبقہ متوسط اور کم آمدنی والے افراد ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی کے شعبے میں جامع اصلاحات کی جائیں۔ سب سے پہلے شفاف آڈٹ کے ذریعے یہ جائزہ لیا جائے کہ کن معاہدوں میں نظرثانی کی گنجائش موجود ہے۔ اگر دیگر ممالک اپنے معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کر سکتے ہیں تو پاکستان بھی قانونی دائرے میں رہتے ہوئے بہتری کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو جدید بنایا جائے تاکہ لائن لاسز کم ہوں اور چوری کا خاتمہ ہو۔ جب ریکوری بہتر ہوگی تو گردشی قرضہ کم ہوگا اور نرخوں میں استحکام آ سکے گا۔
دوسرا اہم قدم مقامی اور سستی توانائی کے ذرائع کو ترجیح دینا ہے۔ پن بجلی کے منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری ضرور مانگتے ہیں مگر ایک بار مکمل ہونے کے بعد کم لاگت بجلی فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح سولر اور ونڈ انرجی کے منصوبے بھی بتدریج سستے ہو رہے ہیں۔ اگر گھریلو سطح پر نیٹ میٹرنگ اور چھوٹے پیمانے پر سولر سسٹمز کی حوصلہ افزائی کی جائے تو قومی گرڈ پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ آئی پی پیز ہونے چاہئیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے عوامی مفاد کے مطابق ہیں یا نہیں۔ جب تک پالیسی سازی میں شفافیت، احتساب اور طویل المدتی منصوبہ بندی شامل نہیں ہوگی تب تک مہنگی بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے کو سیاست سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں ازسرِنو منظم کیا جائے تاکہ بجلی روشنی بھی دے اور اندھیرا بھی نہ پھیلائے۔