پیمرا، وزارتِ اطلاعات و نشریات اور متعلقہ ریاستی اداروں کے نام کھلا خط

ثمینہ سعید
ڈپٹی سیکرٹری جنرل، حلقہ خواتین جماعتِ اسلامی پاکستان

رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد کے موقع پر، بحیثیتِ ایک دینی و سماجی کارکن اور ملک بھر میں خواتین کے اخلاقی و دینی شعور کے فروغ کے لیے میں نہایت سنجیدہ تشویش کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتی ہوں کہ Green Entertainment کی جانب سے ڈرامہ/سیریز “فسانہ مارٹ کا” کو “رمضان اسپیشل” کے عنوان سے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف رمضان المبارک کے تقدس کے منافی محسوس ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے دینی جذبات اور آئینی و اخلاقی اقدار سے بھی متصادم قرار دیا جا سکتا ہے۔
رمضان المبارک اسلامی معاشرے کی روحانی شناخت کا مرکزی ستون ہے۔ یہ مہینہ عبادت، تقویٰ، تلاوتِ قرآن، تزکیۂ نفس، صبر، حیا اور اخلاقی پاکیزگی کی تربیت کا مہینہ ہے۔ ریاستِ پاکستان، جو اپنے آئین کے مطابق اسلامی تشخص کی محافظ ہے، وہاں رمضان کے نام کو کسی ایسے تفریحی مواد کے ساتھ جوڑنا جس میں رقص، موسیقی یا غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی مناظر شامل ہوں، نہ صرف معاشرتی حساسیت کو مجروح کرتا ہے بلکہ اس بابرکت مہینے کے تقدس کو بھی متاثر کرتا ہے۔
آئینِ پاکستان کی دفعات خصوصاً آرٹیکل 31 ریاست کو اس بات کا پابند بناتی ہیں کہ مسلمانوں کو اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کے لیے سہولت فراہم کی جائے اور اسلامی اقدار کے فروغ کا اہتمام کیا جائے۔ اسی طرح پیمرا آرڈیننس اور نشریاتی ضابطۂ اخلاق بھی اس امر کے متقاضی ہیں کہ ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جو مذہبی جذبات کو مجروح کرے یا معاشرتی اخلاقیات کے خلاف ہو۔ اس تناظر میں رمضان المبارک کے نام کو ایک غیر سنجیدہ تفریحی پیشکش کے ساتھ بطور “رمضان اسپیشل” استعمال کرنا نہ صرف اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے بلکہ ضابطہ جاتی نگرانی کی ضرورت کو بھی واضح کرتا ہے۔
لہٰذا میری جانب سے Green Entertainment کی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر اس پروگرام کو “رمضان اسپیشل” کے عنوان سے پیش کرنے پر نظرِ ثانی کرے۔ اگر اس مواد میں ایسے عناصر شامل ہیں جو رمضان کے تقدس اور معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے تو انہیں حذف یا مناسب طور پر ترمیم کیا جائے۔
اسی طرح پیمرا، وزارتِ اطلاعات و نشریات اور دیگر متعلقہ ریاستی اداروں سے مؤدبانہ مگر پرزور اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کے نام کو تجارتی یا غیر موزوں تفریحی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان فروغ نہ پائے۔ اس ماہ مبارک کے تقدس کو برقرار رکھا جائے اس بات پہ معاشرے کے ہر طبقے میں تشویش پائی جاتی ہے کہ ماہ مقدس میں رمضان ٹرانسمیشن میں مسلسل شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جاتا ہے ،غیرموزوں اور نا اہل افراد شرعی اور فقہی گفتگو کرتے ہیں جو کہ عین خلاف شریعت ہے آپ سے گزارش ہے کہ رمضان کے حوالے سے پیش کیے جانے والے پروگرامز کے لیے پیمرا باقاعدہ ضابطہ کار طے کرے اور تمام چینلز کو اس کا پاپند کرے ۔جناب ! میڈیا معاشرے کی فکری و اخلاقی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی و دینی اقدار، آئینی تقاضوں اور معاشرتی حساسیت کا مکمل احترام کرے۔
رمضان کی حرمت ہمارے ایمان، ثقافت اور قومی شناخت کا حصہ ہے۔ اس کی روح سے متصادم کسی بھی عمل کی اصلاح نہ صرف دینی تقاضا بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ امید ہے متعلقہ ادارے اس اہم مسئلے پر سنجیدگی، ذمہ داری اور فوری اقدام کا مظاہرہ کریں گے۔
والسلام
ثمینہ سعید
ڈپٹی سیکرٹری جنرل، حلقہ خواتین جماعتِ اسلامی پاکستان