صرف مریم نواز کے لیے جہاز ،،، کیا یہی عوامی ترجیح ہے؟
صرف مریم نواز کے لیے جہاز — کیا یہی عوامی ترجیح ہے؟
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
جب ملک میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہ لے رہا ہو، جب ہر گھر کا بجٹ عدم توازن کا شکار ہو، جب تنخواہ دار طبقہ مہینے کے اختتام سے پہلے ہی ادھار پر آ جائے، ایسے میں اگر یہ خبر گردش کرے کہ 10 ارب روپے کا جہاز صرف ایک شخصیت، یعنی مریم نواز کے لیے خریدا گیا ہے تو عوام کے ذہن میں سوالات کی ایک پوری قطار کھڑی ہو جاتی ہے، کیونکہ یہاں بات کسی ادارے یا نظام کی نہیں بلکہ ایک مخصوص فرد کے لیے مخصوص سہولت کی ہو رہی ہے، اور یہی پہلو اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔
ریاستی وسائل عوام کی امانت ہوتے ہیں، ان کا ہر استعمال عوامی مفاد کے ترازو میں تولا جانا چاہیے، اگر یہ جہاز واقعی صرف ایک وزیراعلیٰ کے ذاتی یا سرکاری سفر کے لیے مخصوص ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا موجودہ معاشی حالات اس کی اجازت دیتے ہیں؟ کیا صوبے کے سرکاری اسپتال مکمل سہولیات سے آراستہ ہو چکے ہیں؟ کیا سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی ختم ہو چکی ہے؟ کیا دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر 10 ارب روپے کا جہاز عوامی ترجیحات سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔
یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ وزیراعلیٰ کو سیکیورٹی خدشات ہوتے ہیں، وقت کی کمی ہوتی ہے، دور دراز علاقوں کے فوری دورے ضروری ہوتے ہیں، مگر پھر بھی سوال یہ ہے کہ کیا اس مقصد کے لیے پہلے سے موجود سرکاری یا چارٹرڈ سہولیات ناکافی تھیں؟ کیا متبادل انتظامات پر غور کیا گیا؟ کیا اس فیصلے کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھی گئی؟ شفافیت ہی وہ راستہ ہے جو شکوک و شبہات کو ختم کر سکتا ہے، بصورت دیگر ہر بڑا خرچ عوامی بے چینی کو بڑھاتا ہے۔
عوام آج صرف روٹی، کپڑا اور مکان نہیں بلکہ انصاف اور برابری بھی چاہتی ہے، جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ بجٹ خسارے کی وجہ سے ٹیکس بڑھانے پڑ رہے ہیں، سبسڈیز کم کی جا رہی ہیں، ترقیاتی منصوبے مؤخر کیے جا رہے ہیں، تو وہ یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ حکمران طبقہ بھی کفایت شعاری اختیار کرے گا، اگر قربانی کا تقاضا ہے تو وہ سب کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف عوام کے لیے۔
یہاں مسئلہ شخصیت کا نہیں بلکہ مثال کا ہے، اگر ایک وزیراعلیٰ کے لیے اربوں روپے کا جہاز خریدا جاتا ہے تو یہ ایک علامتی پیغام بھی دیتا ہے کہ ریاستی اشرافیہ کی سہولتیں ترجیحی فہرست میں اوپر ہیں، جبکہ عوامی مسائل نیچے، اور یہی تاثر جمہوری معاشرے میں خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ جمہوریت کا اصل سرمایہ عوام کا اعتماد ہے، اور اعتماد اسی وقت قائم رہتا ہے جب فیصلے برابری اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہوں۔
مہنگائی کی موجودہ صورتحال میں ایک عام شہری اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، آٹا، چینی، گھی، سبزیاں اور ادویات سب مہنگی ہو چکی ہیں، بجلی اور گیس کے بلوں نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے، ایسے میں 10 ارب روپے کی خبر صرف ایک عدد نہیں رہتی بلکہ ایک احساس بن جاتی ہے کہ شاید ریاستی ترجیحات اور عوامی ضروریات کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہے۔
اگر واقعی یہ جہاز صرف مریم نواز کے لیے خریدا گیا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح کرے کہ اس فیصلے کی ضرورت کیا تھی، لاگت کیا ہے، اس کے فوائد کیا ہیں اور اس کا بوجھ کس طرح برداشت کیا جائے گا، کیونکہ خاموشی شکوک کو جنم دیتی ہے اور شکوک اعتماد کو کمزور کرتے ہیں، جبکہ شفافیت اعتماد کو مضبوط بناتی ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ ہمیشہ حکمرانوں کے فیصلوں کو عوامی مفاد کے تناظر میں پرکھتی ہے، آج کا ہر فیصلہ کل کی سیاست اور عوامی رائے پر اثر انداز ہوتا ہے، اگر حکمران طبقہ سادگی اور کفایت شعاری کی مثال قائم کرے تو عوام بھی مشکل فیصلوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے، لیکن اگر آسائشیں صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود رہیں اور قربانیاں صرف عوام کے حصے میں آئیں تو فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
ریاست کی مضبوطی کا انحصار شاہانہ پروٹوکول پر نہیں بلکہ عوامی خوشحالی پر ہوتا ہے، جہاز ہو یا گاڑی، پروٹوکول ہو یا مراعات، ہر چیز کا جواز عوامی فلاح میں ہونا چاہیے، کیونکہ آخرکار یہی عوام ٹیکس دیتی ہے، یہی ووٹ دیتی ہے اور یہی ریاست کی اصل طاقت ہے، اگر ان کے مسائل حل نہ ہوں اور ان کے سامنے اربوں روپے کے خصوصی انتظامات کی خبریں آئیں تو سوالات کا اٹھنا ناگزیر ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ یہ پیغام دے کہ وہ بھی اسی معاشی حقیقت کا حصہ ہے جس کا سامنا عوام کر رہی ہے، اگر مشکل وقت ہے تو سب کے لیے ہے، اگر وسائل محدود ہیں تو سب کے لیے ہیں، اور اگر کفایت شعاری ضروری ہے تو سب سے پہلے اس کا آغاز ایوانِ اقتدار سے ہونا چاہیے، کیونکہ جب مثال اوپر سے قائم ہوتی ہے تو نیچے تک اس کا اثر پہنچتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو عوام اور قیادت کے درمیان اعتماد کی ڈور کو مضبوط رکھ سکتا ہے۔







































Visit Today : 273
Visit Yesterday : 577
This Month : 5523
This Year : 53359
Total Visit : 158347
Hits Today : 2195
Total Hits : 710194
Who's Online : 8



















