“ملتان میں آوارہ کتوں کا عذاب اور انتظامیہ کی بے حسی”

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

ملتان جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں ہر طرف انسانی ہجوم، ٹریفک کا شور، دھول مٹی اور زندگی کی بے ترتیبی ہے وہاں آوارہ جنگلی کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے ایک نیا عذاب بن چکی ہے، گلی محلوں میں کھڑے ہونا، بچوں کا کھیلنا، خواتین کا نکلنا سب خطرے میں ہے، یہ کتے نہ صرف شہریوں کو زخمی کرتے ہیں بلکہ خوف و ہراس کی فضا بھی قائم کر دیتے ہیں، جب شہری انتظامیہ کو شکایت کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ یہ پالتو کتے ہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے اور اگر معاملہ افسران تک پہنچے تو کہا جاتا ہے کہ شہری پالتو کتوں کو مارنے کا کہہ رہا ہے، اس طرح اصل مسئلہ دب جاتا ہے اور ذمہ داری کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ بھرتی کیے گئے اہلکار کیا کر رہے ہیں، ان کی تنخواہیں عوامی خزانے سے ادا کی جاتی ہیں لیکن عوامی مسائل کے حل میں ان کا کردار صفر ہے، کوئی جواب دہ نہیں کوئی حکمت عملی نہیں، شہری اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے خوفزدہ ہیں، شام کے وقت گلیوں میں نکلنا مشکل ہو گیا ہے، یہ صورتحال نہ صرف شہری آزادی کو محدود کر رہی ہے بلکہ انتظامیہ کی ناکامی کو بھی بے نقاب کر رہی ہے، یہ مسئلہ صرف جانوروں کو قابو کرنے کا نہیں بلکہ شہریوں کے تحفظ کا ہے، انتظامیہ کو چاہیے کہ آوارہ کتوں کے لیے باقاعدہ شیلٹرز قائم کرے، شہری علاقوں میں کتوں کی افزائش روکنے کے لیے منصوبہ بندی کرے، اہلکاروں کو جواب دہ بنایا جائے اور ان کی کارکردگی عوام کے سامنے لائی جائے، ملتان کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ محفوظ ماحول میں زندگی گزار سکیں، اگر انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو یہ صرف کتوں کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ عوامی اعتماد کا بحران بن جائے گا، یہ بحران اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب شہریوں کی آواز کو دبایا جاتا ہے، جب شکایت کرنے والے کو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، جب افسران اپنی کرسی بچانے کے لیے حقیقت کو مسخ کرتے ہیں، جب اہلکار اپنی ڈیوٹی کو کھیل تماشہ سمجھتے ہیں، جب عوامی پیسہ ضائع ہوتا ہے اور عوامی جانیں خطرے میں پڑتی ہیں، یہ سب کچھ ملتان جیسے تاریخی اور ثقافتی شہر کے شایانِ شان نہیں، یہ شہر جس نے صدیوں تک علم، ادب اور روحانیت کو جنم دیا آج انتظامی بے حسی کا شکار ہے، آوارہ کتوں کا مسئلہ دراصل اس بے حسی کی علامت ہے، یہ علامت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے ادارے کس قدر کمزور ہیں، ہمارے نظام میں کس قدر خلا ہے، ہمارے افسران کس قدر غیر ذمہ دار ہیں، اور ہمارے اہلکار کس قدر بے کار ہیں، اس صورتحال میں شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں، وہ اجتماعی طور پر احتجاج کریں، وہ میڈیا کے ذریعے اپنی بات پہنچائیں، وہ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں، کیونکہ جب ادارے ناکام ہو جائیں تو عوامی اتحاد ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے، یہ اتحاد نہ صرف آوارہ کتوں کے مسئلے کو حل کرے گا بلکہ انتظامیہ کو بھی جھنجھوڑے گا، یہ جھنجھوڑنا ضروری ہے کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل یہ خاموشی ہمارے بچوں کی زندگیوں کو نگل جائے گی، ہمارے بزرگوں کی عزت کو پامال کرے گی، ہماری خواتین کی آزادی کو محدود کرے گی، اور ہمارے نوجوانوں کے خوابوں کو توڑ دے گی، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، ہم اس پر مسلسل بات کریں، ہم اس پر مسلسل لکھیں، ہم اس پر مسلسل دباؤ ڈالیں، تاکہ انتظامیہ کو احساس ہو کہ عوام اب مزید خاموش نہیں رہیں گے، عوام اب مزید برداشت نہیں کریں گے، عوام اب مزید خوفزدہ نہیں ہوں گے، عوام اب مزید دھوکہ نہیں کھائیں گے، یہ کالم اسی عزم کی نمائندگی کرتا ہے، یہ کالم اسی درد کی ترجمانی کرتا ہے، یہ کالم اسی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ملتان کے شہری اب اپنی حفاظت کے لیے خود کھڑے ہوں گے، وہ اپنی گلیوں کو محفوظ بنائیں گے، وہ اپنی سڑکوں کو محفوظ بنائیں گے، وہ اپنی زندگی کو محفوظ بنائیں گے، اور وہ اپنی نسلوں کو محفوظ بنائیں گے، کیونکہ یہ ان کا حق ہے، یہ ان کا فرض ہے، اور یہ ان کی ذمہ داری ہے، اور جب عوام اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیتے ہیں تو کوئی انتظامیہ، کوئی افسر، کوئی اہلکار، کوئی ادارہ ان کے راستے میں نہیں آ سکتا، یہی وہ پیغام ہے جو اس کالم کے ذریعے دیا جا رہا ہے، یہی وہ صدا ہے جو ہر گلی ہر محلے سے اٹھ رہی ہے، یہی وہ حقیقت ہے جو ہر شہری کے دل میں دھڑک رہی ہے، اور یہی وہ عزم ہے جو ملتان کو ایک محفوظ اور خوشحال شہر بنا سکتا ہے۔