درخت یا کاروبار؟ ملتان کے سبز چہرے پر خاموش حملہ
درخت یا کاروبار؟ ملتان کے سبز چہرے پر خاموش حملہ
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملتان، جو کبھی اپنے گھنے درختوں، کشادہ سڑکوں اور قدرتی حسن کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج آہستہ آہستہ کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ ترقی کے نام پر جہاں بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں، وہیں اس شہر کا سب سے قیمتی اثاثہ — اس کے درخت — خاموشی سے ختم کیے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین مثال ملتان ایونیو روڈ، المعروف نادرن بائی پاس، کی ہے جہاں بلڈنگ مالکان کی خواہش اور کچھ بل بورڈ مالکان کے دباؤ پر گرین بیلٹ کے درختوں اور پودوں کو کاٹ دیا گیا۔
یہ واقعہ صرف چند درختوں کے کٹنے کا نہیں بلکہ ایک سوچ کی عکاسی کرتا ہے — ایسی سوچ جس میں ماحول، عوامی مفاد اور آنے والی نسلوں کا مستقبل پس منظر میں چلا جاتا ہے جبکہ وقتی کاروباری فائدہ ترجیح بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی درخت کاروبار کے دشمن ہیں؟ یا ہم نے اپنی ترجیحات کا توازن کھو دیا ہے؟
درخت کسی بھی شہر کے لیے محض سجاوٹ نہیں ہوتے بلکہ یہ زندگی کی علامت ہیں۔ یہ فضا کو آلودگی سے پاک کرتے ہیں، درجہ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں اور شہریوں کو ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں۔ ایک ترقی یافتہ شہر کی پہچان صرف اس کی عمارتیں نہیں بلکہ اس کا سبزہ بھی ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے شہر آج گرین انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جبکہ ہم الٹا راستہ اختیار کر کے اپنے ہی وسائل کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
نادرن بائی پاس پر درختوں کا کاٹا جانا اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ یہ علاقہ ٹریفک کے لحاظ سے مصروف ہے اور یہاں آلودگی کی سطح پہلے ہی زیادہ ہے۔ ایسے میں درختوں کا خاتمہ شہریوں کی صحت پر براہِ راست حملہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک بالغ درخت روزانہ درجنوں لوگوں کے لیے صاف ہوا فراہم کرتا ہے۔ اگر یہی درخت ختم کر دیے جائیں تو اس کا اثر صرف ماحول تک محدود نہیں رہتا بلکہ سانس کی بیماریوں، گرمی کی شدت اور شہری بے چینی میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔
بل بورڈ مالکان کا یہ مؤقف کہ درخت ان کے کاروبار میں رکاوٹ ہیں، نہایت کمزور اور خود غرضی پر مبنی دلیل ہے۔ اگر ہر کاروبار اپنی آسانی کے لیے قدرتی وسائل کو ختم کرنے لگے تو پھر کسی قانون، کسی ضابطے اور کسی اخلاقی حد کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔ کیا اشتہاری بورڈز اتنے اہم ہو چکے ہیں کہ ان کے سامنے انسانی صحت اور ماحول کی کوئی قیمت نہ رہے؟
یہاں سب سے بڑا سوال متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بھی اٹھتا ہے۔ کیا درختوں کی کٹائی باقاعدہ اجازت سے ہوئی؟ اگر ہاں، تو کس بنیاد پر؟ اور اگر بغیر اجازت کے ہوئی، تو اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ یہ خاموشی کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔ سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ایسے واقعات کو روکیں بلکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف مثال قائم کریں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماحولیات کو ہمیشہ ثانوی حیثیت دی گئی ہے۔ ہم اس وقت جاگتے ہیں جب نقصان ناقابلِ تلافی ہو چکا ہوتا ہے۔ لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں بے ہنگم ترقی نے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ کیا ملتان بھی اسی راستے پر گامزن ہے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری بھی اس مسئلے پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ سوشل میڈیا، مقامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے ذریعے آواز اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔ درخت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا مشترکہ اثاثہ ہیں۔ اگر آج ہم نے ان کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
حکومت اور انتظامیہ کو فوری طور پر اس واقعے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ جہاں جہاں درخت کاٹے گئے ہیں، وہاں نئے درخت لگانے کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کوئی بھی فرد یا ادارہ ذاتی مفاد کے لیے گرین بیلٹس کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس کے لیے سخت قوانین اور ان پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ شہر صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بنتے، بلکہ ان میں سانس لینے والی زندگی بھی ضروری ہوتی ہے — اور یہ زندگی درختوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ہم نے ترقی کے نام پر اپنے درخت کھو دیے تو یہ ترقی نہیں بلکہ تباہی ہوگی۔
ملتان کا سبز چہرہ بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج اگر ہم نے خاموشی اختیار کی تو کل یہ خاموشی ہمارے اپنے مستقبل کا گلا گھونٹ دے گی۔







































Visit Today : 272
Visit Yesterday : 369
This Month : 11478
This Year : 59314
Total Visit : 164302
Hits Today : 10067
Total Hits : 820165
Who's Online : 9





















