اندھیروں میں کاروبار، روشنیوں میں ٹیکس ,,,, سمارٹ لاک ڈاؤن یا خاموش معاشی المیہ
اندھیروں میں کاروبار، روشنیوں میں ٹیکس — سمارٹ لاک ڈاؤن یا خاموش معاشی المیہ
تحریر: غضنفرملک
ملک کے معاشی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں عام شہری، خاص طور پر چھوٹے تاجر، دن رات ایک بے یقینی اور دباؤ کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کاروبار پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، مگر اس پر ٹیکسز، فیسوں اور مختلف مدات میں اضافی بوجھ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ معاشی نظام کس سمت جا رہا ہے؟
آج کا چھوٹا تاجر ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہے۔ دن کے وقت بازار سنسان نظر آتے ہیں۔ خریدار کم ہیں، مہنگائی زیادہ ہے اور قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے۔ لیکن جیسے ہی سورج ڈھلتا ہے، کچھ جان آتی ہے، کچھ گاہک نکلتے ہیں، کچھ امید پیدا ہوتی ہے۔ خاص طور پر چھوٹے شہروں اور تجارتی مراکز میں زیادہ تر کاروبار رات کے اوقات میں ہی بہتر چلتا ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ریاستی نظام کی پالیسی سازی میں اس زمینی حقیقت کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا۔
تاجر پہلے ہی بجلی کے بلوں، دکان کے کرایوں، اور مہنگے اخراجات سے پریشان ہے، اس پر ٹیکسوں کی ایک لمبی فہرست اس کی کمر توڑ رہی ہے۔ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، ٹریڈ لائسنس فیس، بلدیاتی فیسیں اور درجنوں قسم کے ٹیکسز اور فیسیں وصول کی جاتی ہیں اور ان حالات میں مختلف پالیسیوں کو نافذ کرکے ہر ماہ ایک نیا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے اور یہ بوجھ تاجروں سے ہوتا ہوا عام شہریوں تک پہنچتا ہے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ بوجھ برداشت کرنے کی سکت عام چھوٹے تاجر یا عام سفید پوش طبقہ میں باقی رہ گئی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی چھوٹے کاروباروں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی دکان چلاتا ہے، گھر کا چولہا جلاتا ہے اور روزگار فراہم کرتا ہے۔ مگر یہی طبقہ سب سے زیادہ نظر انداز بھی کیا جاتا ہے۔ پالیسی ساز ادارے اکثر بڑے کاروباری اداروں یا کاغذی اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں، جبکہ زمینی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔
رات کے وقت چلنے والا کاروبار ایک الگ حقیقت ہے۔ گرمی ہو، لوڈشیڈنگ ہو یا دن کے وقت گاہک نہ ہوں، اکثر تاجر اپنی دکانیں رات کو کھولنے پر مجبور ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب کچھ خرید و فروخت ممکن ہوتی ہے، کچھ آمدن بنتی ہے اور کچھ سانس لینے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی نظام نے کبھی اس پہلو کو سنجیدگی سے دیکھا ہے؟
اس کے برعکس ٹیکس نظام ہر گزرتے دن کے ساتھ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ چھوٹے تاجروں سے بھی وہی سلوک کیا جاتا ہے جو بڑے صنعتی اداروں سے کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں کے وسائل، آمدن اور حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ عدم توازن ہی اصل مسئلہ ہے۔
اگر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کاروبار کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ بنایا جا رہا ہے۔ رجسٹریشن، فائلنگ، جرمانے اور نوٹسز کا ایک ایسا سلسلہ ہے جس نے عام تاجر کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ شخص جو پہلے ہی دن بھر کی محنت کے بعد بمشکل اپنا گھر چلا رہا ہے، وہ ان پیچیدہ نظاموں کو کیسے سمجھے؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب کاروبار کمزور ہوتا ہے تو معیشت بھی کمزور ہوتی ہے۔ اگر چھوٹا تاجر زندہ رہے گا تو ہی معیشت سانس لے گی۔ مگر اگر اسی طبقے کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا تو نہ صرف کاروبار ختم ہوگا بلکہ بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوگا۔
حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ٹیکس نظام کو سادہ، منصفانہ اور حقیقت پر مبنی بنائیں۔ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے کاروبار آسان ہو، نہ کہ مشکل۔ خاص طور پر چھوٹے تاجروں کے لیے الگ اور سہل پالیسی متعارف کرائی جائے تاکہ وہ باآسانی اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کاروباری اوقات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھا جائے۔ اگر کاروبار رات کو زیادہ چلتا ہے تو پالیسی سازی بھی اسی حقیقت کو تسلیم کرے۔ صرف دفتری اوقات یا کاغذی نظام پر فیصلے کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ اصلاح کا ہے۔ اگر ہم نے اپنے چھوٹے تاجروں کو سہارا نہ دیا تو یہ معاشی ڈھانچہ مزید کمزور ہوتا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اور تاجر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں، نہ کہ ایک دوسرے کے سامنے۔
کیونکہ جب دکانیں بند ہوں گی، تو صرف کاروبار نہیں بند ہوگا… امیدیں بھی بند ہو جائیں گی۔






































Visit Today : 551
Visit Yesterday : 445
This Month : 12201
This Year : 60038
Total Visit : 165026
Hits Today : 4382
Total Hits : 828384
Who's Online : 5




















