ملتان (صفدربخاری سے)  نیشنل کالج آف آرٹس (NCA)لاہور کی سابق پرنسپل ساجدہ ونڈل نے کہا ہے کہ ملتان میں فن و ثقافت کے فروغ کے لیے محمد علی واسطی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے یہ بات ملتان آرٹس کونسل کے زیر اہتمام سابق ریزیڈنٹ ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل سید محمد علی واسطی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ انسانیت کے سچے جذبے کے بغیر کوئی آرٹسٹ نہیں بن سکتا اور محمد علی واسطی انسان دوست آفیسر تھے جنہوں نے تمام زندگی لوگوں میں پیار اور محبت بانٹی۔محمد علی واسطی کے فرزند سید حسن علی واسطی نے کہا کہ ان کے والد نے تمام زندگی خلوص کے ساتھ فن و ثقافت کی ترقی کے لیئے کام کیا۔وہ امیر اور غریب کا فرق کیئے بغیر سب کے ساتھ محبت سے پیش آتے تھے۔ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل سلیم قیصر نے کہا کہ سید محمد علی واسطی جیسے آفیسرز ثقافت کے اداروں میں بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔وہ آرٹ اور آرٹسٹوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔معروف سنگر اور سابق GM پی ٹی وی ملتان راحت ملتانیکر نے کہا کہ محمد علی واسطی نہایت وضع دار انسان تھے۔وہ آرٹس کونسل کے ایک اچھے آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے اور اعلی انسان بھی تھے۔ڈائریکٹر محکمہ تعلقات عامہ ملتان سجاد جہانیہ نے کہا کہ محمد علی واسطی اپنے کام پر مکمل مہارت رکھتے تھے۔اپنے کام سے بے لوث محبت کرنے والے ان جیسے آفیسرز بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔معروف صحافی ملک محمد اکمل وینس نے کہا کہ محمد علی واسطی ہر کسی کے دوست تھے۔انہوں نے تمام زندگی فن کی آبیاری میں گزار دی۔ملتان میں کرافٹ بازار کا قیام انہی کی کاوشوں سے ممکن ہوا۔ملتان آرٹس کونسل کے بورڈ آف منیجمنٹ (BOM) کے رکن معروف کالم نگار شاکر حسین شاکر نے کہا کہ محمد علی واسطی آرٹ کی جملہ اصناف سے مکمل واقفیت رکھتے تھے۔وہ فنکار دوست آفیسر تھے اور شہر بھر کے سبھی فنکار ان کی اسی خوبی کے باعث ان کا احترام کرتے تھے اور ان سے پیار کرتے تھے۔معروف قانون دان اور شاعر وسیم ممتاز ایڈووکیٹ نے کہا کہ محمد علی واسطی ایک زندہ دل آفیسر تھے۔ان کا دل غریب فنکاروں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتا تھا۔انہوں نے کبھی کسی فنکار کو مایوس نہیں کیا اور سب کی حوصلہ افزائی کی۔فن موسیقی کے معروف استاد صغیر احمد نے کہا کہ محمد علی واسطی کے ساتھ ان کا بہت دیرینہ تعلق تھا۔وہ اپنے شہر کی ثقافتی اقدار سے بے حد پیار کرتے تھے۔معروف شاعر قمر رضا شہزاد نے کہا کہ محمد علی واسطی ملتان کی ثقافت اور فن کا اہم حوالہ رہیں گے خاص طور پر ملتان کے کرافٹ کو ترقی دینے اور ہنر مندوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔معروف صحافی،مظہر جاوید اور رفیق احمد قریشی نے کہا کہ سید محمد علی واسطی ایک منکسرالمزاج آفیسر اور انسان تھے یہی وجہ ہے کہ فنکاروں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی ان کے گرویدہ تھے۔معروف شاعر سلیم ناز نے محمد علی واسطی کے حوالے سے اپنی یادوں کو تازہ کیا اور کہا کہ انہوں نے ملتان کے کرافٹ کو عالمی سطح پر شناخت دی۔معروف شاعر مختار علی نے کہا کہ سید محمد علی واسطی ثقافت کے میدان میں اپنی پہچان آپ تھے۔ان جیسے لوگ کم کم دکھائی دیتے ہیں۔نورالامین خاکوانی نے کہا کہ محمد علی واسطی نے ملتان کی ثقافت اور آرٹ کو دنیا بھر میں پہچان عطا کی۔معروف مصورہ فرح رحمن نے کہا کہ محمد علی واسطی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے خطے کی تقافت کو دل سے پیار کیا اور وسیب کے فنکاروں کو شناخت دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔طارق شاہ قادری اورعبدالرحمان نقاش نے کہا کہ محمد علی واسطی ملتان کے دستکاروں سے بے حد پیار کرتے تھے۔ان کے جانے سے ملتان کی دستکاری یتیم ہوگئی ہے۔ڈرامہ آرٹسٹ رضوان شہزاد نے کہا محمد علی واسطی کی فن اور فنکاروں سے محبت مثالی تھی۔لوک فنکار وقاص ملک نے سید محمد علی واسطی کو بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ محمد علی واسطی کا فنکاروں سے پیار اور محبت کبھی نہ بھلایا جاسکے گا۔تقریب کے آخر میں سجاد ملک نے سید محمد علی واسطی کے درجات کی بلندی کے لیئے دعا کرائی۔