ملتان: پاسبان رکشہ ٹیکسی ڈرائیورز یونین (رجسٹرڈ پنجاب) کے عہدیداران نے ملتان پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب کے حالیہ ٹرانسپورٹ نوٹیفکیشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریب رکشہ ڈرائیورز اس پالیسی سے بدترین مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ پریس کانفرنس سے پیر پرویز اقبال بودلہ ضلعی صدر، ملک رمضان منڈ چیئرمین، ملک عمران ساجد سینئر نائب صدر، سید مبشر حسن بخاری جنرل سیکرٹری اور محمد ناصر انفارمیشن سیکرٹری نے خطاب کیا۔ عہدیداران نے کہا کہ پاسبان رکشہ یونین صوبہ بھر کی واحد رجسٹرڈ تنظیم ہے جو پنجاب کے رکشہ ٹیکسی ڈرائیورز کی نمائندگی کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ یونین کا بنیادی مؤقف قانون کی حاکمیت اور لاقانونیت سے انکار ہے اور اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پیر پرویز اقبال بودلہ نے کہا کہ وہ مرکزی صدر ایوب خان اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں اعجاز حسین کے حکم پر صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح ملتان میں بھی رکشہ ڈرائیوروں کی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے حالیہ نوٹیفکیشن نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے اور سب سے زیادہ متاثر غریب رکشہ ڈرائیور ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونین نے ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو متعدد بار تحریری اور زبانی درخواستیں دیں مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نوٹیفکیشن کے باعث ہزاروں رکشہ ڈرائیور بے روزگاری کے خطرے سے دوچار ہیں، جو حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ یونین کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ اگر موٹر سائیکل رکشے فٹنس کے قابل نہیں تو پھر یہ رکشے فیکٹریوں میں بنتے اور مارکیٹ میں فروخت کیوں ہوتے ہیں؟ اقساط کے نام پر شورومز پر بیٹھے سودخوروں نے غریب طبقے کو بیدردی سے لوٹا، اس پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ٹریفک پولیس کو چالان کے ساتھ ایف آئی آر درج کرنے تک کے اختیارات مل گئے ہیں جس سے شہریوں اور رکشہ ڈرائیوروں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ بڑے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے پر بھی انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ یونین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے اپیل کی کہ غریب رکشہ ڈرائیوروں پر اتنا ہی بوجھ ڈالا جائے جتنا وہ برداشت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت روزگار کے دروازے بند کرنے کے بجائے ایسے حل فراہم کرے جو غریب طبقے کو سہارا دے سکیں۔ آخر میں عہدیداران نے پریس کانفرنس میں شریک صحافیوں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ رکشہ ڈرائیوروں کی آواز حکومت تک مؤثر انداز میں پہنچائیں گے۔