ملتان : آل پاکستان پیرامیڈیکل سٹاف فیڈریشن،الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل آرگنائزیشن،ینگ پیرامیڈیکل الائنس کے عہدے داران نے پنجاب کے بنیادی مراکز صحت،رورل ہیلتھ سنٹرز،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال،ڈی ایچ کیو ہسپتال کی پرائیویٹائزیشن کے خلاف اور دیگر مطالبات کے حق میں تمام پورے پاکستان کے تمام صوبے پہلا 10 فروری پارلیمنٹ ہاؤس آسلام باد اسمبلی ہال کے سامنے دھرنا ہوگا و ہاں سے جو مرکزی قیادت فیصلہ کرے گئی اُس کے مطابق اگلا دھرنا لاہور پنجاب اسمبلی کے با ہر کیا جائے گا اس کے بعد پنجاب بھر میں بھی دھر نے کریں گئے اور وہ ہماری ابگریڈیشن جو ہے چار درجاتی فارمولا کے اوپر جو پیرامیڈکس کی اپگریڈیشن ہے وہ 2011 میں ہوئی تھی اور اس کا نوٹیفکیشن گورنر کی منظوری سے اورفنانس ڈیپارٹمنٹ کی منظوری سے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نے کیا تھا لیکن اس کے اوپر ابھی تک عمل درامن نہیں ہو رہا باقی تمام نوٹیفیکیشن پر عمل برہمن ہو سکتا ہے تو پیرامیڈکس کے اس نوٹیفکیشن پر عمل درامد کیوں نہیں ہوگا اگر اس پر بھی عمل درامد نہ ہوا تو آؤٹ سورس وہ جو پرائیویٹ کر رہے ہیں ادارے ان کے ساتھ ساتھ ان کا بھی پراسس ساتھ کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس آسلام باد اسمبلی ہال کے سامنے اورلاہور پنجاب اسمبلی کے سامنے کفن پوش احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے ان خیالات کا اظہار ال پاکستان پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن پنجاب کے صوبائی جنرل سیکریٹری چوہدری مقبول احمد گجر،ایکٹیو الائٹ پروفیشنل ارگنائزیشن پنجاب کے چیئرمین طاہر سلیم،زنگ پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر خلیل احمد،بشرہ خانم،نزہت اقبال،کنول رشید،ملک ریاض احمد،بابا یوسف گل،محمد صدیق انصاری،میڈم شازیہ ارشد،یاسمین ناز،عمران جاوید،محمد عامر لودھی،محمد اقبال سندھو،عمران کلیم بھٹہ،محمد سیف اللہ،محمد لقمان،محمد ناصر،محمد ریاض،شگفتہ گوہر،راشدہ پروین،عبدالقدیر،محمد ابوبکر، ریحان بھٹی،حامد خلیل،شفیق الرحمن،محمد ارشد ہاشمی،محمد بشیر جوئیہ نے دیگر عہدے داران کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی ملازم کش پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اگر صوبائی حکومت پنجاب نے ملازم کش پالیسیاں بند نہ کیں تو سروں پر کفن باندھ کر باہر نکلیں گے افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اس وقت پنجاب بھر کے ہر ضلع کے تقریبا تین ہسپتال پرائیویٹ کر دیے ہیں جبکہ 40 کی تعداد میں تقریبا ہر ہسپتال کا عملہ خالی اسامیاں پر تعینات کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور ائندہ مرحلے میں ہر ضلع میں 50 ہسپتال پرائیویٹ کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین کی تمام نوکریاں ختم ہو جائیں گی دوسری جانب پنشن اور گریجویٹی،لیو انکیشمنٹ جیسے قوانین شرمناک فعل ہیں اسی طرح 17A بحال ہونے کے بعد پھر ختم کر دیا گیا تمام مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو دما دم مست قلندر ہوگا صوبائی حکومت پنجاب ہوش کے ناخن لے اور 9 فروری تک مطالبات تسلیم کریں بصورت دیگر ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہو جائیں گے۔