ملتان (صفدربخاری سے) آل پاکستان ریجنل نیوز پیپر سوسائٹی ( اے پی آراین ایس ) پنجاب کی چیف کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر حمیدہ خانم نے کہا ہے کہ پیکا ایکٹ آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے، جو صحافیوں سے مشاورت کے بجائے طاقت کے زور پر زبردستی لایا گیاہے ، ہم اسے مسترد کرتے ہیں اور میڈیا کی آزادی کے حق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے ، انہوں نے کہا کہ یہ قانون کورونا وائرس کی طرح میڈیا پرلاگو کردیا گیا ہے ،میڈیا جو پہلے ہی مختلف قسم کی جکڑ بندیوں کو شکار ہے ، مذید شکنجہ میں آجائے گا ،انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو قانون کے دائرہ میں لاکر فیک نیوز اور بلیک میلنگ کاخاتمہ کرنا ضروری ہے ، لیکن اس کی آڑ میں پورے میڈیا کی آواز ہی دبانے کی کوشش کی جارہی ہے،جو افسوس ناک ہے ، پیکا آرڈی نینس حقیقی میڈیا پرسنز کو حراساں کرنے،زبان بندی اور قلم بندی کرنے کے مترادف ہے،اس غیر جمہوری اور آمرانہ قانون کو نامنظورکرتے ہیں، اگر اس حوالے سے صحافیوں و متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر لی جاتی ،تو اس حوالے سے زیادہ بہتر اور قابل عمل قانون سازی ہوسکتی تھی ، لیکن لگتا ہے کہ حکومت نے یہ سب جلد بازی میں کیا ،ہمارا حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ ہے کہ وہ مذکورہ قوانین پر نظرثانی کریں اور صحافیوں کی مشاورت سے اس حوالے سے لائحہ عمل بنایا جائے۔