سرزمین پاکستان سونا اگلنے کو تیار
سرزمین پاکستان سونا اگلنے کو تیار
رپورٹ: طارق قریشی
الحمداللہ پاکستانیوں کو مبارک ہو کہ طویل برسوں سے ملک و قوم کے مستقبل اور معیشت پر چھائے مایوسی کے بادل جلد چھٹنے کو ہیں۔ ہماری نااہلیوں کے باوجود قدرت پاکستان کا مستقبل سنوارنے کیلئے حرکت میں آچکی ہے۔ قدرت کی مہربانی سے سرزمین پاکستان جلد سونا اگلنے کو تیار ہو گئی ہے اور پاکستان سال 2028 میں انشاءاللہ سعودی عرب کی طرح کا امیر اور خود کفیل ملک بننے جارہا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ریکوڈک سے سونے کی برآمدگی بنے گی جبکہ پنجاب کے سونے کے نئے ذخائر بھی اس انقلاب میں ممد و معاون ثابت ہونگے۔ ریکوڈک منصوبے کی راہ میں حائل ایک اور رکاوٹ بھی ختم ہوگئی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے نو بلین ڈالرمالیت کے سونے اور تانبے کے ریکوڈک منصوبے میں دس سے بیس فیصد شیئرخریدے گا۔ جو مکمل ہونے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی تانبے کی کانوں میں سے ایک ہو گی۔ ریکوڈک ریتلے پہاڑوں کا علاقہ ہے۔ نوکنڈی ریکوڈک کا سب سے بڑا قصبہ ہے جس میں بیس ہزار لوگ رہائش پذیر ہیں۔ نوکنڈی کوئٹہ تفتان روڈ پر غربت کا مارا چھوٹا سا قصبہ ہے۔ یہ پورا علاقہ لق ودق صحرا ہے دور دور تک ریت اور مٹی کے سوا کچھ نہیں۔ درمیان میں کہیں کہیں خشک سیاہ پہاڑ ہیں۔ تاہم اسی بیاباں میں قدرت نے تانبے اور سونے کے دنیا کے پانچویں بڑے ذخائر رکھ چھوڑے ہیں۔ ریکوڈک سونے کی زمین ہے اس کے نیچے کھربوں ڈالر کا سونا چھپا ہوا ہے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کارروائیوں سے متاثرہ ریکوڈک منصوبے کی دسمبر 2022 میں وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل نو کی گئی اور سونے اور تانبے کی کان کنی کرنیوالی بین الاقوامی کمپنی “بیرک گولڈ کارپوریشن” کو ریکوڈک کے صرف 160 مربع کلومیٹر رقبہ میں کان کنی کا ازسرنو ٹھیکہ دیا گیا۔ جس پر وفاقی اور صوبائی حکومت کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوگا۔ بیرک کمپنی تخمینہ کے مطابق ان کے زیر کنٹرول ایریا سے چالیس سال میں چھ ارب ٹن تانبا اور چار کروڑ پندرہ لاکھ اونس سونا نکالا جا سکتا ہے۔ کمپنی ریکوڈک میں 40 سال کام کرے گی یہ مدت مزید تیس چالیس سال بھی بڑھ سکتی ہے۔ تانبے کے ان ذخائر کی برآمدگی سے پاکستان دنیا کے دس بڑے تانبا پیداوار کرنے والے ممالک اور سونے کے ذخائر دینے والے 14 بڑے ممالک میں شامل ہوجائے گا۔ جبکہ سارے ریکوڈک ایریا کے ذخائر ملک کو تانبا اور سونا پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بنا سکتے ہیں۔اب تک بیرک کمپنی نے اپنی مکمل سرمایہ کاری اور ٹیم ورک سے مختصر عرصہ میں پراجیکٹ کو 2028 میں سونے اور تانبے کی پہلی پیداوار دینے کے قابل بنا لیا ہے۔ کمپنی نے علاقے میں کیمپ، سائیٹ اور دوسری بنیادی سہولیات کا انتظام کر لیا ہے۔ سائیٹ کے قریب اپنا رن وے اور عارضی ائیرپورٹ بنا لیا ہے۔ کیمپ کنٹینر ہومز پر مشتمل ہے جہاں والی بال گراؤنڈ، کینٹین، ٹک شاپ اور انٹرنیٹ تک دستیاب ہے۔ پانی بڑی گہرائی سے نکالا گیا ہے۔ سولر پینلز اور ہیوی ڈیزل جینریٹرز کے ذریعے بجلی کا بندوبست کیا گیا ہے۔ کیمپ میں ساڑھے چھ سو سے زائد ورکرز رہائش پذیر ہیں جن میں سے 80 فیصد مقامی افراد ہیں۔ منصوبہ کے آغاز تک کمپنی خواتین سمیت 25 ہزار لوگوں کو پراجیکٹ میں ملازمت فراہم کرے گی۔ جن میں سے 80 فیصد مقامی ہوں گے۔ مقامی آبادی کی فلاح وبہبود کی ذمے داری بھی کمپنی اٹھائے گی۔ اسی تناظر میں کمپنی نے نوکنڈی میں جدید ہسپتال اور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کر دیا ہے۔ منصوبے سے حاصل کردہ آمدن کا پچاس فیصد حصہ سرمایہ کاری کرنے والی بیرک کمپنی، 25 فیصد تین وفاقی اداروں اور 25 فیصد بلوچستان حکومت کو ملے گا۔ ادھر پنجاب کے ضلع اٹک میں دریائے کابل اور دریائے سندھ کے ملنے کے مقام پر سات سو ارب روپے مالیت کے تقریبا اٹھائیس لاکھ تولہ سونے کے ذخائر بھی دریافت ہوگئے ہیں۔ جس کی تصدیق پنجاب کے موجودہ اور سابق وزرائے معدنیات نے بھی کردی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک وفاقی رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں محتاط اندازے کے مطابق 1.6 ارب ٹن سونے کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ گلگلت بلتستان میں بھی باریت ہنکوئی کے مقام پر تانبے اور سونے کی معدنیات پائے جانے کے امکانات ہیں۔ جبکہ ضلع مانسہرہ میں دربند کے علاقے میں جیو کیمیکل تکنیک کے ذریعے پلیسر گولڈ اور دیگر دھاتوں کا پتا لگانے کی کوشش جاری ہے۔ تو گویا یہ طے پایا کہ اگر کوئی ریشہ دوانی نہ ہوئی اور 2028 میں ڈرلنگ کے آغاز کے بعد جب پاکستانی خزانے میں ڈالرز آنے لگیں گے تو میرا آپکا ملک کتنا بدل جائے گا اے اہل وطن ذرا سوچ کر تو دیکھیں۔ غالب امکان ہے کہ ان خزانوں سے پاکستان میں خوشحالی کا نیا انقلاب آئے گا۔





































Visit Today : 461
Visit Yesterday : 581
This Month : 12693
This Year : 60529
Total Visit : 165517
Hits Today : 10577
Total Hits : 839374
Who's Online : 3




















