“جب غفلت پر صرف سرزنش ہو تو انصاف مر جاتا ہے”
پولیس تفتیش، عوامی اعتماد اور نظامِ احتساب پر ایک سوالیہ نشان

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
کسی بھی مہذب معاشرے میں انصاف صرف عدالتوں کے فیصلوں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس انصاف کی بنیاد وہ ابتدائی تفتیش ہوتی ہے جو پولیس انجام دیتی ہے۔ اگر تفتیش ہی کمزور، جانبدارانہ یا غفلت پر مبنی ہو تو پھر عدالتیں بھی مکمل انصاف فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسے کئی مقدمات موجود ہیں جہاں اصل متاثرہ فریق برسوں عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے چکر لگاتا رہتا ہے جبکہ غفلت یا ملی بھگت کے مرتکب اہلکار معمولی سی سرزنش کے بعد دوبارہ اپنے عہدوں پر کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ملتان میں سامنے آنے والا ایک حالیہ معاملہ بھی ہمارے احتسابی نظام پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک مقدمہ درج ہوتا ہے، الزام کروڑوں روپے کے مالی فراڈ کا ہوتا ہے، متاثرہ شہری انصاف کے لیے پولیس کے پاس جاتا ہے، مگر تفتیش کے دوران ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جن پر خود پولیس کے اعلیٰ افسران بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ چارج شیٹ جاری ہوتی ہے، محکمانہ انکوائری ہوتی ہے، غفلت ثابت ہوتی ہے، لیکن انجام صرف ایک “Censure” یعنی سرزنش کی سزا پر ختم ہو جاتا ہے۔
یہاں سوال صرف ایک افسر یا ایک مقدمے کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ اگر کسی پولیس افسر کی غفلت کے نتیجے میں ملزم فرار ہو جائے، متاثرہ شخص برسوں عدالتوں میں خوار ہو، کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرے اور ذہنی اذیت کا شکار ہو، تو کیا محض “سرزنش” انصاف کہلا سکتی ہے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر محکمانہ کارروائیاں صرف فائلوں کی حد تک محدود رہ جاتی ہیں۔ عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کارروائی ہو گئی، سزا دے دی گئی، اب معاملہ ختم۔ مگر کیا سزا واقعی جرم کے مطابق ہوتی ہے؟ کیا اس سے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہوتی ہے؟ کیا متاثرہ شہری کے اعتماد کی بحالی ہو پاتی ہے؟ ان سوالات کا جواب اکثر نفی میں ملتا ہے۔
ایک عام شہری جب کسی سرکاری ادارے کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو وہ پہلے ہی ایک مشکل جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔ اسے پولیس، عدالت، وکلا، تاریخوں اور مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر اس کی شکایت درست ثابت ہو جائے تو اسے یہ امید ہوتی ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف مثالی کارروائی ہوگی تاکہ دوسروں کے لیے بھی سبق بن سکے۔ لیکن جب نتائج اس کے برعکس آئیں تو معاشرے میں مایوسی جنم لیتی ہے۔
پولیس کسی بھی ریاست کا سب سے اہم نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔ عوام اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے اسی ادارے پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر یہی ادارہ عوامی اعتماد کھو دے تو پھر قانون کی حکمرانی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پولیس احتساب کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ وہاں معمولی غفلت پر بھی سخت کارروائی کی جاتی ہے کیونکہ ایک پولیس افسر کی غلطی صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے نظام کے وقار کو متاثر کرتی ہے۔
پاکستان میں بھی قوانین موجود ہیں۔ پنجاب پولیس E&D Rules میں واضح درج ہے کہ سزا الزامات کی نوعیت کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر کسی اہلکار کی غفلت سے عوامی نقصان ہوا ہو تو سزا بھی ایسی ہونی چاہیے جو مستقبل میں مثال بن سکے۔ مگر افسوس کہ اکثر اوقات قواعد کتابوں تک محدود رہ جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر طاقتور نظام اپنے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اس معاملے میں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ جب متاثرہ شہری نے محتسب کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ دی گئی سزا ناکافی ہے تو اس کے احساسات اور نقصان کے بجائے صرف یہ کہہ کر معاملہ بند کر دیا گیا کہ محکمانہ سزا دی جا چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سزا غیر مؤثر اور غیر متناسب ہو تو کیا صرف سزا کا دیا جانا ہی انصاف کہلا سکتا ہے؟
یہ رویہ نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پورے معاشرے میں یہ پیغام دیتا ہے کہ طاقتور سرکاری ڈھانچے کے خلاف انصاف حاصل کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتماد آہستہ آہستہ اداروں سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ غریب اور عام شہری کو مکمل انصاف شاید کبھی نہیں مل سکتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمانہ احتساب کو حقیقی معنوں میں مؤثر بنایا جائے۔ صرف فائل مکمل کرنے یا رسمی کارروائی کرنے کے بجائے ایسے فیصلے کیے جائیں جو انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ اگر کسی افسر کی غفلت سے کسی شہری کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے تو اس معاملے کو معمولی غلطی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام پولیس افسران ایک جیسے نہیں ہوتے۔ آج بھی بہت سے ایماندار، فرض شناس اور بہادر افسران موجود ہیں جو دن رات عوام کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مگر چند افراد کی غفلت پورے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اچھے افسران کے وقار اور ادارے کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی سخت احتساب کیا جائے۔
معاشرہ صرف قانون سے نہیں بلکہ انصاف کے احساس سے چلتا ہے۔ اگر متاثرہ شخص کو یہ محسوس ہو کہ اس کی بات سنی گئی، اس کے نقصان کا ادراک کیا گیا اور ذمہ داروں کو واقعی جوابدہ بنایا گیا تو یہی احساس ریاست پر اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ لیکن اگر غفلت پر صرف سرزنش ہو اور نقصان اٹھانے والا شخص در بدر انصاف ڈھونڈتا پھرے تو پھر سوال صرف ایک مقدمے کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ انصاف پر اٹھنے لگتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ادارے یہ سمجھیں کہ عوامی اعتماد کسی بھی سرکاری محکمے کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ جب انصاف کمزور پڑتا ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ اور جب احتساب صرف رسمی کارروائی بن جائے تو پھر انصاف آہستہ آہستہ مرنے لگتا ہے۔