ملتان :  منیجنگ ڈائریکٹر واسا فیصل شوکت نے سیوریج اور واٹر سپلائی کے بلوں کی عدم ادائیگی پر نادہندگان کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے اور جی آئی ایس سروے کی رفتار بڑھانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے منقطع کیے گئے کنکشن غیر قانونی طور پر دوبارہ بحال کروانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر کے اندراج کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔ایم ڈی واسا نے جنوری 2026 کے لیے 24 کروڑ 50 لاکھ روپے کے ریکوری ٹارگٹ کے حصول کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے شعبہ ریکوری کے تمام ڈپٹی ڈائریکٹرز، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور سرکل انچارجز کو بھرپور محنت اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واسا کی مالی خودمختاری کا انحصار سیوریج اور واٹر سپلائی بلوں کی بروقت وصولی پر ہے، اس لیے تمام افسران اور فیلڈ اسٹاف کو ٹیم ورک کے تحت اپنی کارکردگی میں واضح بہتری لانا ہوگی۔ ایم ڈی واسا فیصل شوکت نے ریکوری اسٹاف کے لیے ماہانہ ٹارگٹ کا 100 فیصد حصول لازمی قرار دیتے ہوئے تمام ریکوری انسپکٹرز اور سرکل انچارجز کی کارکردگی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اہداف حاصل نہ کرنے والے عملے کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لے کر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ دیرینہ نادہندگان کے خلاف بلا تاخیر کریک ڈاؤن کیا جائے جبکہ کرنٹ ریکوری پر بھی خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ ایم ڈی واسا نے کہا کہ ادارے کی ساکھ ہماری کارکردگی سے وابستہ ہے اور تنخواہوں، پنشن، بجلی اور دیگر ضروری اخراجات کی بروقت ادائیگی کے لیے ریکوری اہداف کا حصول ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ احکامات گزشتہ روز شعبہ ریکوری کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کے دوران جاری کیے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ریکوری عبدالمجید، ڈپٹی ڈائریکٹر ریکوری محمد ارشد سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ایم ڈی واسا نے صارفین کو آگاہ کیا کہ کہ جی ائی ایس سروے کے لیے فیلڈ میں موجود ٹیموں سے تعاون کریں ان کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے جبکہ واسا بلوں کی ادائیگی کے لیے بینک، پوسٹ آفس، نادرا اور جاز کیش کے ذریعے آن لائن سہولت دستیاب ہے جبکہ واسا کی ویب سائٹ سے ماہانہ ڈپلیکیٹ بل بھی ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ صارفین اپنے ذمہ واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں تاکہ پانی اور سیوریج کی فراہمی مزید بہتر بنائی جا سکے۔