کمیونٹی آگہی سیشن،تمباکو نوشی کے نقصانات اور قوانین پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور
ملتان: آلٹرنیٹو ریسرچ انیشیٹوز(اے آر آئی)،سن کنسلٹنٹ اور کمیونٹی ٹوبیکو کنٹرول گروپ کے زیر اہتمام “سگریٹ نوشی کے اثرات اور حکمت عملی” کے موضوع پر کمیونٹی آگہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین صحت، سماجی رہنماؤں اور ٹرینرز نے شرکت کی،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلطان محمود ملک نے بتایا کہ اے آر آئی اور سن کنسلٹنٹ مشترکہ طور پر “تمباکو نوشی سے پاک پاکستان پروگرام” کے تحت گزشتہ کئی سال سے آگاہی سیشنز اور مختلف اداروں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد سگریٹ کے استعمال کو پائیدار بنیادوں پر کم کرنا ہے تاکہ ملک میں سگریٹ نوشی کرنے والے دو کروڑ 40 ہزار افراد کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے،ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں اور کمیونٹیز میں آگاہی کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ انسداد تمباکو نوشی اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے لئے تحفظِ عامہ آرڈیننس 2002ء پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ڈاکٹر محمد محسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو افراد مسلسل 15 سال تک سگریٹ نوشی کرتے ہیں، ان میں گلے کے کینسر جیسے مہلک مرض کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں انہوں نے بتایا کہ تمباکو نوشی نہ صرف استعمال کرنے والے بلکہ ان کے اردگرد موجود افراد، خصوصاً اہل خانہ کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ اس سے پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ محمد مزمل نے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ حکومت کی جانب سے منشیات اور تمباکو کے عادی افراد کے لئے بحالی مراکز قائم کئے گئے ہیں، جہاں ان کا باقاعدہ علاج اور رہنمائی کی جاتی ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی سگریٹ برانڈز پر ٹیکس عائد کر کے استعمال میں کمی لانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم غیر قانونی طور پر درآمد ہونے والے بین الاقوامی برانڈز کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے، جو صحت کے مسائل کو مزید بڑھا رہی ہے،سیشن میں پروفیسر عبدالماجد وٹو،ٹرینر عائشہ محمود نے بھی خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ گھروں میں بڑوں کو مثالی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ بچے انہیں سے سیکھتے ہیں، جبکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، مقررین نے تحفظِ عامہ آرڈیننس 2002ء کی مختلف شقوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ آگاہی مہمات کے ساتھ ساتھ قوانین پر عملی عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے جانا ضروری ہے،انہوں نے بتایا کہ شق 6 کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی مکمل طور پر ممنوع ہے، شق 8 کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کو تمباکو مصنوعات کی فروخت یا ترسیل پر پابندی ہے،شق 9 کے تحت تعلیمی اداروں کے اندر اور 50 میٹر کے دائرے میں تمباکو مصنوعات کی فروخت ممنوع ہے، شق 10 کے تحت تمام عوامی مقامات پر “نو سموکنگ زون” کے واضح بورڈ آویزاں کرنا لازم ہے،مگر ان پر عمل نہیں ہو رہا،مقررین نے زور دیا کہ ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہی ایک صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے۔


































Visit Today : 259
Visit Yesterday : 497
This Month : 1292
This Year : 65011
Total Visit : 169999
Hits Today : 2953
Total Hits : 885029
Who's Online : 4





















