ملتان: انجمن تاجران سیداں والی بائی پاس بوسن روڈ کے زیر اہتمام صدر رانا عبد الرحمن اور عارف فصیح اللہ کی قیادت میں حکومت کی جانب سے مارکیٹوں کی جلد بندش کے فیصلے کے خلاف بھرپور اور منظم احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرین نے بوسن روڈ پر ٹائر جلا کر روڈ بلاک کیا اور شدید نعرہ بازی کی، جبکہ تاجروں نے یک جہتی کے اظہار کے طور پر دکانیں بند رکھیں جس سے علاقے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں اور ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی،احتجاج میں جنرل سیکرٹری رانا وقاص، نائب صدر مرزا فرخ، چوہدری محمد بوٹا، عمران پراچہ، محمد امجد، حافظ جمشید، محمد جاوید سمیت بڑی تعداد میں تاجروں نے شرکت کی اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی،شرکاء نے حکومت کی پالیسی کو معاشی سرگرمیوں کے لئے نقصان دہ قرار دیا،ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹوں کی قبل از وقت بندش سے نہ صرف کاروباری نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی محدود ہو رہے ہیں،انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور ایسے فیصلے معیشت کے پہیے کو سست کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔صدر انجمن تاجران رانا عبد الرحمن نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ مارکیٹوں کی قبل از وقت بندش سے کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے ،جس سے نہ صرف تاجروں بلکہ مزدور طبقہ کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہورہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجروں کے مسائل کو سنجیدگی سے سنے اور پالیسی سازی میں مشاورت کو یقینی بنائے،انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کاروباری اوقات میں نرمی ناگزیر ہے تاکہ تاجروں کو ریلیف مل سکے اور معاشی سرگرمیاں بحال رہیں،ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری ہمیشہ ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتی آئی ہے اور آئندہ بھی کرے گی، بشرطیکہ انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔عارف فصیح اللہ نے کہا کہ یہ احتجاج کسی تصادم کے لئے نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے ہے،انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پہلے ہی مہنگائی اور دیگر مسائل کا شکار ہیں، اور ایسے میں مارکیٹوں کی جلد بندش ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور تاجروں کو اعتماد میں لے کر قابلِ عمل حکمت عملی وضع کرے،تاجر رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، تاہم وہ پرامن اور جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے تاکہ معاشی استحکام اور کاروباری بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔