ملتان :  سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میاں راشد اقبال نے کہا ہے کہ ایڈ ہاک ازم اور فیصلہ سازی کے روایتی طریق کار کی وجہ سے کاروباری شعبہ شدید دبا ئوکا شکار ہے،غیر منصفانہ ٹیکس نظام کادستاویزی معیشت پر 55 سے 60 فیصد تک بوجھ ہے جس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی بلند شرح اور پیچیدہ نظام ٹیکس چوری اور غیر رسمی معیشت کو فروغ دے رہے ہیں،ٹرن اوور پر ٹیکس کاروبار دشمن ہے ،یہ خسارے میں چلنے والی کمپنیوں پر بھی بوجھ ڈالتا ہے۔سپر ٹیکس کے خاتمے، کارپوریٹ ٹیکس میں کمی اور ٹیکس ریفنڈ کے نظام کو آسان بنانا وقت کی ضرورت ہے میاں راشد اقبال نے کہا کہ مہنگی توانائی، خام مال کی بلند قیمتیں اور قرض تک محدود رسائی برآمدی شعبے کی کارکردگی متاثر کر رہی ہیں۔اسٹیٹ بینک کوپالیسی ریٹ میں اضافے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی ، اس فیصلے کے معیشت میں حصہ ڈالنے والے شعبوں کیلئے منفی اثرات ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف وجوہات کی وجہ سے مارکیٹ میں سرمائے کی شدید قلت ہے جسے دور کرنے کیلئے کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آرہی جس کی وجہ سے معیشت کی گروتھ متاثر ہو رہی ہے میاں راشد اقبال نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے، معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کے عوام پاکستان کی جنگ میں جیت پر فخر اور خوشی محسوس کررہے ہیں افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کی عوام افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہیں معرکہ حق میں کامیابی پر پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا اور پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔