سرسبز مستقبل کی بنیاد ,,, اربن فاریسٹ کا شاندار آغاز

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
شہری زندگی آج جس تیزی سے بدل رہی ہے، اس نے جہاں سہولیات میں اضافہ کیا ہے وہیں ماحول کو شدید دباؤ کا شکار بھی بنا دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی، درجہ حرارت میں اضافہ، اور سبزہ زاروں کی کمی ایسے مسائل ہیں جو نہ صرف انسانی صحت بلکہ مجموعی ماحولیاتی توازن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں کینٹ بورڈ ملتان کے زیر اہتمام “اربن فاریسٹ انیشی ایٹو” کا آغاز ایک نہایت خوش آئند اور بروقت قدم ہے، جو نہ صرف ماحول کی بہتری کی امید دلاتا ہے بلکہ ایک سرسبز مستقبل کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔
یہ افتتاحی تقریب اپنی نوعیت کے اعتبار سے محض ایک رسمی سرگرمی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے وژن کی عملی تعبیر تھی جس کا مقصد شہری علاقوں میں قدرتی حسن کو بحال کرنا اور ماحولیاتی آلودگی کا مؤثر حل پیش کرنا ہے۔ تقریب میں معزز مہمانوں، شہریوں، سول سوسائٹی اور طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشرہ اب ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔
مہمانانِ خصوصی میں اسٹیشن کمانڈر برگیڈئیر سلیم یونس اور وائس چانسلر نواز شریف ایگریکلچر یونیورسٹی ڈاکٹر راؤ محمد آصف کی شرکت نے اس تقریب کو مزید اہمیت بخشی۔ ان کی موجودگی اس بات کا پیغام تھی کہ ماحولیاتی تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے عسکری، تعلیمی اور انتظامی اداروں کا یکجا ہونا نہایت ضروری ہے۔ جب مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد ایک مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو اس کے نتائج نہ صرف مثبت بلکہ دیرپا بھی ہوتے ہیں۔
اس موقع پر فارمر ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (FDO) کی جانب سے فراہم کردہ پودوں کے ذریعے شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جس کے تحت ایک ایکڑ رقبے پر تقریباً 500 پودے لگائے گئے۔ بظاہر یہ ایک محدود پیمانے کی سرگرمی محسوس ہو سکتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک بڑی سوچ کا آغاز ہے۔ اگر اسی ماڈل کو شہر کے مختلف علاقوں میں اپنایا جائے تو یہ آلودگی کے خاتمے اور درجہ حرارت میں کمی کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
تقریب میں سی ای او کینٹ بورڈ سردار عاطف سلطان، ایڈیشنل سی او محمد آصف حیات، گارڈن سپریڈنٹ چوہدری ظہیر حسین ، حبیب اللہ ، میاں شاہد ، انجینئر آصف ، کینٹ بورڈ ممبران، تاجر برادری، سابق ممبران اور معززینِ علاقہ کی بھرپور شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ منصوبہ محض سرکاری سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی شمولیت کا بھی حامل ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو کسی بھی منصوبے کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
اربن فاریسٹ کا تصور جدید دنیا میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ یہ دراصل ایک ایسا طریقہ ہے جس کے تحت محدود جگہ میں زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ایک گھنا جنگل تیار کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے نہ صرف کم وقت میں زیادہ سبزہ پیدا کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ماحولیاتی فوائد بھی جلد حاصل ہوتے ہیں۔ دنیا کے بڑے شہروں میں یہ ماڈل کامیابی سے اپنایا جا رہا ہے اور اب ہمارے ہاں بھی اس کا آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اس منصوبے کے تحت ایسے پودوں کا انتخاب کیا گیا ہے جو زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ درخت نہ صرف فضا کو صاف کریں گے بلکہ آکسیجن کی فراہمی کو بھی بہتر بنائیں گے، جو شہری زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ درخت گرمی کی شدت کو کم کرنے، شور کی آلودگی کو کم کرنے اور شہری ماحول کو خوشگوار بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔
تاہم، کسی بھی شجرکاری مہم کی کامیابی کا دارومدار صرف پودے لگانے پر نہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال پر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات قابلِ تحسین ہے کہ اربن فاریسٹ کے لیے ایک باقاعدہ اور مؤثر نظام ترتیب دیا گیا ہے تاکہ پودوں کی افزائش اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر اس نظام پر مستقل بنیادوں پر عمل درآمد کیا گیا تو یہ منصوبہ نہ صرف کامیاب ہوگا بلکہ ایک مثالی ماڈل کے طور پر بھی سامنے آئے گا۔
اس تقریب میں طلبہ کی شرکت خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ نوجوان نسل کو ایسے مثبت اقدامات میں شامل کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہی بچے کل کے ذمہ دار شہری ہوں گے۔ اگر آج ان میں ماحول دوست سوچ پیدا کی جائے تو مستقبل میں یہ ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گے۔
تاہم اس تمام تر مثبت پیش رفت کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ سلسلہ یہاں تک محدود رہے گا یا اسے مزید وسعت دی جائے گی؟ کیا دیگر ادارے بھی اس مثال کو اپنائیں گے؟ اور کیا حکومت اس طرح کے منصوبوں کو پالیسی کا حصہ بنائے گی؟ ان سوالات کے جوابات ہی اس اقدام کی اصل کامیابی کا تعین کریں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اربن فاریسٹ جیسے منصوبوں کو وقتی سرگرمی کے بجائے ایک مستقل حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا جائے۔ ہر شہر، ہر علاقے اور ہر محلے میں ایسے چھوٹے چھوٹے جنگلات قائم کیے جائیں، تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں تاکہ لوگ اس مشن کا حصہ بن سکیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اربن فاریسٹ انیشی ایٹو ایک مثبت، مؤثر اور دور اندیش اقدام ہے جو نہ صرف آج کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر ماحول کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر اس جذبے کو برقرار رکھا گیا اور اسے مزید فروغ دیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے شہر واقعی سرسبز، صاف اور خوشگوار بن جائیں گے۔
یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک صحت مند، متوازن اور پائیدار مستقبل کی جانب لے جا سکتا ہے۔