مرحوم کے لواحقین کی آواز میرٹ پر انصاف اور عبرتناک سزا
مرحوم کے لواحقین کی آواز میرٹ پر انصاف اور عبرتناک سزا
تحریر: ایس پیرزادہ
ملتان کینٹ کے مصروف اور حساس علاقے میں 12 جنوری 2025 کو پیش آنے والا
قتل کا واقعہ محض ایک شریف شہری کی جان لینے کا سانحہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک کڑی آزمائش اور سنجیدہ سوال بن چکا ہے سلیمان کھوکھر، جو ایئرپورٹ پر فوڈ اینڈ سیکیورٹی کے شعبے سے وابستہ تھے اپنے اہلِ خانہ کے لیے کھانا لینے گھر سے نکلے مگر واپسی ان کی تقدیر میں نہ تھی۔ ایک معمولی تلخی، جو محلے داری کے دائرے میں حل ہو سکتی تھی، ہمسائے کی عدم برداشت اور شدید غصے کے باعث چھری اور لوہے کی راڈ کے وار میں بدل گئی اور ایک خاندان اپنے کفیل سے محروم ہو گیا
یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اور افسوسناک ہے کہ کینٹ جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں دن دہاڑے اس نوعیت کا قتل ہونا انتظامیہ اور سیکیورٹی نظام کے لیے سوالیہ نشان ہے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا جو ایک مثبت قدم ہے، مگر اصل امتحان گرفتاری کے بعد شروع ہوتا ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا انصاف واقعی میرٹ پر ہوگا یا یہ کیس بھی وقت کے ساتھ فائلوں کی نذر ہو جائے گا محلے داروں کے درمیان چھوٹی موٹی تلخیاں معاشرتی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں مگر جب یہ تلخیاں قانون کو ہاتھ میں لینے اور جان لینے تک پہنچ جائیں تو یہ صرف ایک فرد کا جرم نہیں رہتیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی علامت بن جاتی ہیں مرحوم کے لواحقین، جن میں ایک بیوہ اور چھ سالہ معصوم بیٹا شامل ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور انسپکٹر جنرل پولیس سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کیس میں کسی دباؤ، سفارش یا مصلحت کے بغیر صرف اور صرف میرٹ پر انصاف فراہم کیا جائے اور ملزم کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے جو آئندہ کے لیے واضح مثال بن سکے یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ پولیس کی تفتیش محض ایک وقتی جھگڑے تک محدود نہ رہے بلکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے یہ جانچنا ناگزیر ہے کہ آیا یہ محض ذاتی تلخی تھی یا اس کے پیچھے کوئی پرانی دشمنی گروہی پس منظر، کاروباری مفاد یا کوئی اور محرک کارفرما تھا سطحی تفتیش انصاف کو کمزور اور سوالات کو مزید گہرا کر دیتی ہے سلیمان کھوکھر محض ایک شہری نہیں تھے بلکہ ایک خاندان کے کفیل ایک معصوم بچے کے مستقبل کی امید اور اپنے پانچ بھائیوں کا سہارا تھے ان کی ناگہانی موت نے ایک گھر کو اجاڑ دیا اور یہ حقیقت ایک بار پھر سامنے آ گئی کہ ہر قتل صرف ایک جان نہیں لیتا بلکہ پورے خاندان کو غم، خوف اور معاشی مشکلات میں دھکیل دیتا ہے کینٹ جیسے حساس علاقے میں اس نوعیت کے واقعے نے انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔ کیا علاقے میں گشت اور نگرانی مؤثر تھی؟ کیا کاروباری مراکز میں پولیس کی موجودگی تسلی بخش تھی؟ کیا ریسکیو اور طبی امداد بروقت پہنچ سکتی تھی؟ ان تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے یہ واقعہ شہریوں کے لیے بھی ایک تلخ سبق ہے کہ معمولی تنازعات کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مکالمہ، برداشت اور صبر کو فروغ دینا ہوگا ساتھ ہی ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی تحفظ کو محض دعوؤں تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال کچریں
مرحوم کے لواحقین کی پکار دراصل پورے معاشرے کی آوازچ ہے وہ یہ نہیں مانگ رہے کلہ انصاف محض رسمی ہو بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ انصاف جلد شفاف اور عبرتناک انداز میں فراہم کیا جائے تاکہ یہ پیغام واضح ہو جائے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کوئی شخص ذاتی غصے یا دشمنی کی بنیاد پر کسی شریف شہری کی جان لینے کا حق نہیں رکھتا یہ کالم اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ایک خاندان کے غم کو اجتماعی درد سمجھنا ہوگا اور انصاف کو صرف فیصلہ نہیں بلکہ مثال بنانا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی سلیمان کھوکھر معمولی تلخی کا شکار ہو کر اپنی جان نہ گنوائے



































Visit Today : 124
Visit Yesterday : 509
This Month : 1666
This Year : 65385
Total Visit : 170373
Hits Today : 329
Total Hits : 886922
Who's Online : 7





















