ملتان :  ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی محنت کش یونین کے صدر سمیع اللہ خان اور جنرل سیکرٹری ملک حماد افضل ڈوگر نے الزام عائد کیا ہے کہ جب سے کبیر خان نے سی ایف او چارج سنبھالا ہے، مستقل ملازمین کی تنخواہوں سے بلاجواز اور غیرقانونی کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، جس سے محنت کش طبقے میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔یونین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس سنگین معاملے پر یونین عہدیداران نے متعدد بار سی ایف او کبیر خان سے بات چیت کی، مگر ہر بار انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ ملازمین ڈیوٹی چور ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملازمین واقعی ڈیوٹی پر موجود نہیں تو پھر ٹھیکیداروں کو دیا گیا 1600 ٹن ویسٹ اٹھانے کا ٹارگٹ روزانہ کیسے مکمل ہو رہا ہے؟انہوں نے کہا کہ محنت کرنے کے باوجود ملازمین کی تنخواہوں سے 20 سے 25 ہزار روپے تک کٹوتی کی جا رہی ہے، جو نہ صرف ظلم بلکہ اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ یونین کا مؤقف ہے کہ یہ سراسر ناانصافی اور ملازمین کا معاشی استحصال ہے۔یونین عہدیداران نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر ملازمین کے بقایا جات ادا نہ کیے گئے اور تنخواہوں سے کٹوتیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو سی بی اے یونین جمعہ کے روز کچہری چوک پر احتجاجی دھرنا دے گی، جو ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر ملتان اور سی ای او ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں، ملازمین کو ان کے جائز حقوق دلوائیں اور کٹوتیوں کا سلسلہ بند کرایا جائے، بصورت دیگر ملازمین کام چھوڑ ہڑتال پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری سی ایف او کبیر خان پر عائد ہوگی،اس موقع پر یونین کے دیگر عہدیداران آصف ساجد، محمود ریاض خان، خاکوانی اختر ڈوم، سہیل قریشی، ملک عامر اعوان، مرتضیٰ سہیل، ساجد تھیم، سمیت بڑی تعداد میں ملازمین بھی موجود تھے۔