اسلام آباد/خانیوال: آج منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً 1 سے 2 بجے کے درمیان ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جب راجپوت ٹریول کی ایک مسافر بس، جو اسلام آباد سے خانیوال جا رہی تھی، ڈھوک پٹھان کے قریب ڈرائیور کی غفلت اور دورانِ ڈرائیونگ نیند آنے کے باعث بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کے نتیجے میں بس میں سوار متعدد مسافر شدید زخمی ہو گئے جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا ہے۔ زخمی ہونے والوں میں خانیوال کے رہائشی ارزام علی اور ان کی اہلیہ مسز ارزام بھی شامل ہیں، جو حادثے میں بری طرح زخمی ہوئے اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت پڑی۔ انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حادثے کے فوری بعد ٹریول کمپنی کی جانب سے کسی قسم کی ریسکیو، طبی امداد یا تعاون فراہم نہیں کیا گیا، جس پر مسافروں اور ان کے اہل خانہ میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ متاثرہ افراد کے مطابق ٹریول کمپنی کی اس مجرمانہ غفلت نے زخمیوں کی حالت مزید تشویشناک بنا دی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد اور پولیس موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو بس سے نکالا اور قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ پولیس نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ بس ڈرائیور کی لاپرواہی اور کمپنی کی ذمہ داری کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں رات کے اوقات میں شدید دھند اور خراب موسمی حالات کے باعث ٹریفک حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاضلاعی بس سروسز کے لیے ڈرائیوروں کی فٹنس، اوقاتِ کار، اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔