ملتان :  علی ٹاؤن محلہ عباس ٹاؤن کے رہائشی محمد یعقوب نے اہل علاقہ کے ہمراہ احتجاجی مظاہرے کی قیادت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بیٹے محمد عارف نے اپنی ماں سے ملکر اپنے بہن، بھائیوں پر تشدد کیا میں اپنی بیوی رحمت بی بی کو غلط کردار پر ساڑھے 5سال قبل طلاق دے چکا ہوں، رحمت بی بی کے ورغلانے پر تمام بچے مجھے چھوڑ کر ماں کے پاس چلے گئے بعدازاں ماں کا کردار دیکھ کر جب بچوں کی غیرت نے گوارہ نہ کیا تو وہ تمام واپس میرے پاس آکر میرے ساتھ ہی رہتے ہیں بچوں میں سب سے بڑا بیٹا محمد عارف ماں رحمت بی بی کے ساتھ رہتا ہے رحمت بی بی اور محمد عارف نے کئی بار کرپٹ منشیات فروشوں اور کرپٹ عورتوں کے ہمراہ میرے گھر پہ حملے کرکے چادر وچار دیواری کو پامال کرکے میری بیٹیوں پہ تشدد کیا جس پر بیٹے محمد عارف کو اپنی منقولہ اور غیرمنقلہ جائیداد سے عاق کردیا، چاہے اڈا چلائے یا منشیات بیچے رحمت بی بی اور محمد عارف سے کوئی تعلق نہ ہے۔ محمد یعقوب نے مزید کہاکہ رحمت بی بی اور عارف طلاق کی رنجش نکالنے کے لیے میری 15سالہ بیٹی کو غلط دھندے پر لگانا چاہتے ہیں جس کی تھانہ سیتل ماڑی میں درخواست دی مگر تفتیشی سیتل ماڑی پولیس اسٹیشن نے رحمت بی بی سے ساز باز ہوکر درخواست داخل دفتر کروا دی۔ اس موقع پر محمد یعقوب کے بچوں سویرا نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس سے پہلے والدہ کے ساتھ رہتی تھی مگر کرپٹ عناصر سے تعلق کا علم ہوتے ہی ماں کو چھوڑ کر اپنی عزت کے تحفظ کیلئے والد کے پاس آگئی اب غریب باپ کے ہمراہ رہتی ہوں، چھوٹے بیٹے نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بڑا بھائی کرپٹ مافیا کے ہمراہ متعدد بار ہم پر حملہ آور ہوچکا ہے اور اب قتل اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ مظاہرین نے حکام بالا، آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰٰ پنچاب سے اپیل کی ہے کہ محمد یعقوب اور بچوں کو فی الفور تحفظ فراہم کیا جائے بصورت دیگر خود سوزی پر مجبور ہوں گے۔