ملتان: پاکستان سرائیکی پارٹی ٹی رجسٹرڈ کے تحت مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر وینس فارم ہاؤس ملتان ایک تقریب منعقد ہوئی پاکستان سرائیکی پارٹی کے مرکزی صدر ملک اللہ نواز وینس نے کہا 19966 میں پاکستان میں مزدور اور چھوٹے ملازم کی تنخواہ ایک سو دس روپے ماہانہ تھی اور سونے کا بھاؤ بھی ایک سو دس روپے تولہ تھا پاکستان کے با اختیار اسمبلیوں کے ممبران اور حکومت سمجھداری کرتی اور ہر سال بجٹ میں مزدور یا چھوٹے ملازم کی تنخواہ ایک تولہ سونا کے برابر بنیاد بناتے تو آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ برطانیہ کی معیشت کے برابر پاکستانیوں کی معیشت ہوتی تو پاکستان ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہوتا آج بھی پاکستان امیر ملک ہے جو زرعی فصلات باغات کی نعمت سے مالا مال ہے نسلی اور علاقائی تعصب سے پاک معاشرہ پاکستان کو ترقی یافتہ بنا سکتا ہے بہتر نظم و نسق سے مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونا کے برابر ہو سکتی ہے رشوت اور منتھلی سسٹم سے پاک معاشرہ تمام ملک کیلئے خوشحالی کا ضامن ہوسکتا ہے تقریب سے صوبائی صدر صوبہ سرائیکستان مقصود خان لنگاہ چیف آرگنائزر احمد نواز سومرو ڈپٹی سیکرٹری ملک محمد فہیم آرائیں ڈویژنل صدر مہر ربنواز چاون ملتان سٹی کے صدر اجمل خان بادوزئی نے خطاب میں کہا ملکی ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ تیرہ کروڑ کا صوبہ پنجاب ہے جس نے پورے پاکستان کو نسلی اور علاقائی طور پر جکڑا ہوا ہے اور سرائیکی قوم سرائیکی وسیب کو غربت کی چکی دھکیلا ہوا ہے تیرہ کروڑ صوبہ پنجاب کی تقسیم سے سرائیکی قوم کو حقوق ملیں گے صوبوں کی آبادی برابر ہوگی پورا ملک محنت کرکے خوشحال اور ترقی یافتہ ہوگا اور کثیر تعداد میں پارٹی کے دیگر عہدیداران اور کارکنان نے شرکت کی مہمانان خصوصی میں محفوظ خان شجاعت کمیونسٹ پارٹی ملتان کے سربراہ نے خطاب میں کہا 1996 میں میری شادی ہوئی اس وقت سونے کا بھاؤ ایک سو دس روپے تولہ اور میری ماہانہ تنخواہ ایک سو دس روپے تھی اگر بجٹ میں یہی تسلسل ہوتا تو آج پاکستان میں مزدور اور چھوٹے ملازم کی کم ازکم تنخواہ ایک تولہ سونا کے برابر ہوتی جو ملک کی خوشحالی کا ضامن بنتی پاکستان فوڈ ورکر کے چئیر مین ملک عاشق بھٹہ اور سابق ایڈوائزر ٹو گورنر چوہدری سلیم الرحمن میئو نے کہا کہ حقوق کے حصول اور جدو جہد کیلئے مزدوروں کی تربیت اور متحد ہونا ضروری ہے سول سوسائٹی کے سیاسی اور سماجی لوگوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی