لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ 8 فروری عوام دشمن سیاسی جماعتوں کے لیے یوم سوگ ہو گا، 75برسوں میں جرنیلوں اور تین سیاسی پارٹیوں کی حکومتوں کو دیکھ لیا، ان میں کوئی بھی ملک اور قوم کی حالت بہتر نہیں کر سکا، آج معاشی بدحالی، ناانصافی، ظلم و جبر، مہنگائی، بے روزگاری، زراعت و صنعت کی تباہی انہی حکومتوں کی بدولت ہے۔ حکمرانوں نے امریکی تابعداری اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر اقتدار میں پہنچ کر اپنی پراپرٹیز، بنک بیلنس میں اضافہ کیا اور اپنے خاندانوں کے شہزادوں شہزادیوں کی اسمبلیوں تک رسائی دی، عام پاکستانیوں کے لیے اپنے گھر کے دروازے بھی بند رکھے، مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی نے ایک ہزار افراد کا جلوس بھی فلسطینیوں کے حق میں نہیں نکالا، کیا یہ لیڈر مسلمان اور پاکستانی نہیں؟ یہ مسجد اقصیٰ کی آزادی پر خاموش، کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں غیرجانبدار رہے، ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لانے کے لیے ایک لفظ بھی نہ بولے، ایسی قیادت کا عوام محاسبہ کریں۔ آج جنوبی پنجاب سے جماعت اسلامی الیکشن مہم کا آغاز کر رہی ہے، اگر قوم چاہتی ہے ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو اور دیانت دار قیادت آئے، نوجوانوں کو روزگار ملے، بزرگوں کو بڑھاپا الاؤنس، ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب و قلم، یتیم کی کفالت، ہر بچی کو اعلیٰ تعلیم میسر ہو، سودی نظام کا خاتمہ اور ملک خوشحالی اسلامی فلاحی ریاست کی جانب گامزن ہو تو پھر عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جنوبی پنجاب کے دو روزہ خوشحال پاکستان روڈ کارواں کے پہلے روز ڈیرہ غازی خاں، تونسہ میں جلسہ عام اور ریتلہ، واہوا، شاہ صدر دین، ٹبی قیصرانی، ناڑی، کوٹ موڑ، کلمہ چوک تونسہ، اڈا کریم والا، شادن لُنڈ، ڈولے والا میں عوامی استقبال سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی راؤ محمد ظفر، سیکرٹری جنرل صہیب عمار صدیقی، امیر جماعت اسلامی ضلع ڈیرہ خازی خان پروفیسر رشید اختر، قیم ضلع حافظ محمد عثمان نذیر، این اے 184قومی اسمبلی کے امیدوار نعیم اللہ خان، پی پی 285صوبائی اسمبلی کے امیدوار مظہر محمود و دیگر بھی موجود تھے۔ سراج الحق کے استقبال میں بڑی تعداد روایتی لباس، گھڑ سوار اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ سراج الحق نے کہا کہ عوام جاگیرداروں، وڈیروں، نام نہاد سیاسی رہنماؤں، لینڈ، ڈرگ، پٹرول، آٹا، چینی مافیاز کی سیاست ختم کرنا چاہتے تو جماعت اسلامی کے دست بازو بنیں، کیوں کہ انھی مافیاز نے بھیس اور جھنڈے بدل کر اقتدار میں پہنچ کر اپنے لیے مراعات سیمٹیں، ملکی خزانہ کو بے دردی سے لوٹا، قومی اداروں کو تباہ کیا، ملک کو آئی ایم ایف، ورلڈ بنک کے شکنجے کی ہتھکڑیاں پہنائیں۔ آج پاکستان میں سالانہ پانچ ہزار ارب کرپشن ہوتی ہے، جس کی ذمہ دار یہی حکومتیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام ملک کے لیے ٹیکس اور اپنی جانیں نچھاور کرتے ہیں، لیکن یہاں کوئی عام آدمی اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکتا، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے دروازے شہزادوں اور شہزادیوں کے لیے کھلتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا عوام کا کام ان جاگیرداروں، اشرافیہ، اسٹیبلشمنٹ کے پروردوں کے گھروں کا طواف کرنا ہی رہ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں دو بار خیبرپختونخواہ اسمبلی کا فنانس منسٹر، محکمہ جنگلات اور پلاننگ کا وزیر رہا، لیکن ذاتی گاڑی اور دیگر مراعات نہیں لیں۔ آج اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں، نواز شریف اور زرداری، شہباز شریف اور دیگر بھی خود کو احتساب کے لیے پیش کریں۔ امیر جماعت نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے، بجلی، گیس، پٹرول، اشیا خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، غریب اپنے بچوں کو دو وقت کا کھانا کھلانے سے قاصر ہے، ان حکمرانوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے، لیکن ان کے اللے تللوں میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی کی حکومت آئے گی تو عوام کی خوشحالی کے سفر کا آغاز ہو گا، ہم ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور دیگر قرب و جوار کے اضلاع میں سیلاب آیا تھا تو آزمائش کی اس گھڑی میں یہاں کی سیاسی اشرافیہ، حکمران عوام کو یارو مددگارچھوڑ دیا، جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن سیلاب متاثرین کی خدمت میں دن رات مصروف عمل رہی۔ انھوں نے کہا کہ آیندہ عام انتخابات میں عوام جماعت اسلامی کے انتخابی نشان ترازو پر مہر لگائیں۔