بڑھتے جرائم سے عوام پریشان ، ذہنی مریض بن گئے ——

تحریر: کلب عابد خان

ملکی معیشت کی خراب صورت حال کاروباری حالات بدتر اور سیکورٹی معاملات سے ہر طبقہ پریشان تھانوں کی بلڈنگز کو خوب صورت تو بنایا جارہا ہے لیکن تھانوں میں تعینات اہلکار آج بھی پرانی روایات پر گامزن شہری اگر درخواستیں فرنٹ ڈیسک پر جمع کروا دے تو روایتی انداز میں انہیں داخل دفتر کرنے میں توجہ دی جاتی ہے بوجہ تفتیشی اہلکار نے کئی بار شکایت کنندہ سے رابطہ کیا اور نمبر بند ہونے کی وجہ شکایت کلوز کردی گئی ہے جب کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ ایک شہری درخواست دے اور وہ تفتیشی اہلکار کے بلانے پر تھانے پیش نہ ہو اگر شکایت کنندہ پیش ہو بھی جائے تو تفتیشی اہلکار تھانوں میں موجود ہی نہیں پائے جاتے یا تو کسی جائے وقوعہ پر گئے ہوتے ہیں یا وہ رات ڈیوٹی کے بعد سورہے ہوتے ہیں زیادہ تر تفتیشی اہلکار تو عدالتوں میں پیش ہونے کا کہہ کر تھانوں میں ملتے ہیں نہیں اب سائلین جائیں تو جائیں کہاں 1787 پر پولیس رویہ کے خلاف شکایت درج کروائیں تو کم از کم 5 سے 7 منٹ کال انتظار میں رہتی ہے اور کال اٹینڈ ہو بھی جائے تو بھی شکایت کے باوجود کئی روز تک انتظار کروایا جاتا ہے شکایت کے حل کے لیے سی پی او ، ایس پی انویسٹیگیشن یا ایس پیز حضرات کی جانب سے کال آ جاتی ہے کہ آپ پیش ہوں آپ نے 1787 پر کال کی تھی جب سائل پیش ہوجائے تو افسران کی مصروفیت اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ عوام پہلے ہی دفاتر کے باہر انتظار میں کھڑی ہوتی ہے نہ بیٹھنے کا کوئی انتظام ہوتا ہے نہ ہی پینے کے پانی کا کوئی انتظام سائلین کو دفاتر کے چکر میں ذلیل کیا جاتا ہے مصالحتی کمیٹیاں بنائی گئیں تھیں ان پر اگر کام کیا جاتا تو عوام کو زیادہ پریشانی نہ ہوتی اور زیادہ سے زیادہ لوگوں ہے مسائل بغیر مقدمات کے حل ہوتے اور پولیس سیکورٹی مسائل پر توجہ دیتی لیکن نہ جانے اچھے اقدامات پر توجہ کیوں ختم کردی جاتی ہے اب تاجروں کے اپنے مسائل ہیں ایک تو کاروبار نہیں ہے اور اوپر سے بڑھتے جرائم جس کی اگر تاجر نشاندہی کریں بھی سہی تو ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی بازاروں گلیوں میں جرائم پیشہ بھکاریوں کی تعداد میں بڑی حد تک اضافہ جرائم کو جنم دے رہا ہے لیکن اس پر بھی ابھی تک پولیس کی جانب سے اقدامات نہیں کیئے گئے سردیاں آتے ہی گلی محلوں بازاروں میں چوری کی وارداتوں میں اضافہ کیمروں کی مدد سے چوروں کو گرفتار کیا جاسکتا ہے لیکن تفتیشی اہلکار اس پر بھی دیر کردیتے ہیں اور پھر نئی واردات میں مصروف ہوجاتے ہیں کاروباری افراد اپنی ساری جمع پونجی چوروں کے ہاتھوں لٹوا بیٹھتے ہیں وزیر اعلی پنجاب اور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب سیکورٹی مسائل کو بہتر کریں حالات خود بخود بہتر ہو جائیں گے عوام کو سیکورٹی مسائل نے ذہنی مریض بنا دیا ہے